عارف علوی اکاؤنٹس منجمد کیس:تفتیشی افسر کو ریکارڈ پیش کرنیکاحکم
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251213-08-16
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔ دوران سماعت وکیل درخواست گزار بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر کے صاحبزادے عواب علوی اور ان کی اہلیہ کے بیانات گذشتہ سماعت پر ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، کم از کم عواب علوی اور ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹس بحال کیے جائیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ تفتیشی افسر اسلام آباد سے پیش ہوتے ہیں لیکن طبیعت کی خرابی کے باعث پیش نہیں ہوسکے۔ عدالت نے پوچھا کہ درخواست گزاروں پر کیا الزامات ہیں، جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ انہیں مذہبی طور پر توہین آمیز بیانات کے الزام میں انکوائری کے نوٹسز موصول ہوئے ہیں۔ جسٹس عبدالمبین لاکھو نے کہا کہ اسی وجہ سے درخواست گزاروں کے اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں تاہم وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شیڈول آفنس نہیں ہے اور منی لانڈنگ کا الزام بھی نہیں ہے، لہٰذا اکاؤنٹس منجمد کرنا غیر مناسب ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر نے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں تاہم عدالت تفتیشی افسر کو پیش ہونے کی مہلت دے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد تفتیشی افسر کو ریکارڈ کے ہمراہ طلب کرتے ہوئے سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اکاو نٹس منجمد تفتیشی افسر کو
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔