data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251213-08-16

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی اور اہل خانہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔ دوران سماعت وکیل درخواست گزار بیرسٹر علی طاہر نے عدالت کو بتایا کہ سابق صدر کے صاحبزادے عواب علوی اور ان کی اہلیہ کے بیانات گذشتہ سماعت پر ریکارڈ کیے جاچکے ہیں، کم از کم عواب علوی اور ان کی اہلیہ کے اکاؤنٹس بحال کیے جائیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہیں، جس پر سرکاری وکیل نے بتایا کہ تفتیشی افسر اسلام آباد سے پیش ہوتے ہیں لیکن طبیعت کی خرابی کے باعث پیش نہیں ہوسکے۔ عدالت نے پوچھا کہ درخواست گزاروں پر کیا الزامات ہیں، جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ انہیں مذہبی طور پر توہین آمیز بیانات کے الزام میں انکوائری کے نوٹسز موصول ہوئے ہیں۔ جسٹس عبدالمبین لاکھو نے کہا کہ اسی وجہ سے درخواست گزاروں کے اکاؤنٹس منجمد کیے گئے ہیں تاہم وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شیڈول آفنس نہیں ہے اور منی لانڈنگ کا الزام بھی نہیں ہے، لہٰذا اکاؤنٹس منجمد کرنا غیر مناسب ہے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ تفتیشی افسر نے بیانات ریکارڈ کر لیے ہیں تاہم عدالت تفتیشی افسر کو پیش ہونے کی  مہلت دے۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد تفتیشی افسر کو ریکارڈ کے ہمراہ طلب کرتے ہوئے سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اکاو نٹس منجمد تفتیشی افسر کو

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں