اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیکا ڈائریکٹر کی تعیناتی غیر قانونی قرار دے دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا) کے ڈائریکٹر ایس ایم او صبیح حیدر کی تعیناتی غیر قانونی قرار دے دی ہے اور کہا ہے کہ ڈائریکٹر اسٹریٹیجی مینجمنٹ آفس (SMO) کے عہدے کی تخلیق بھی غیر قانونی تھی۔
جسٹس بابر ستار نے سینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیکا محمد ساجد حسین کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا، جس میں ادارے کے ڈائریکٹر کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایس ایم او کے عہدے کی تخلیق اور اس پر کی گئی تقرری قانون کے مطابق نہیں تھی۔
عدالت نے ہدایت کی کہ نیکا بورڈ جائزہ لے کہ یہ ترمیمی ریگولیشنز بغیر بورڈ کی منظوری کے سرکاری گزٹ میں کیسے شائع ہوئیں۔ مزید کہا گیا کہ نیکا بورڈ کو ان غیر منظور شدہ ترامیم کی اشاعت کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔
عدالت نے فیصلے کی کاپی چیئرمین نیکا بورڈ کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ ادارے میں قانونی تقاضوں کے مطابق اقدامات کیے جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔