اسلام آباد ہائیکورٹ: نیکا کے ڈائریکٹر ایس ایم او صبیح حیدر کی تعیناتی غیر قانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل انرجی ایفیشنٹ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا) کے ڈائریکٹر ایس ایم او صبیح حیدر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
جسٹس بابر ستار نے نیکا کے ملازم سجاد حسین کی درخواست پر محفوظ شدہ 25 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیے: پیٹرولیم مصنوعات پر نئے ٹیکس کی تجویز، وزارت توانائی نے سمری وفاقی کابینہ کو بھیج دی
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر ایس ایم او کا عہدہ نیکا کے سروس رولز میں موجود نہیں تھا، لہٰذا اس پر تعیناتی قانون کے مطابق نہیں تھی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ نیکا میں ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے مقررہ عمر کی حد 45 سال تھی، جسے غیر قانونی طور پر کم کر کے 40 سال کیا گیا۔
عدالت نے مارچ 2024 کا گزٹ نوٹیفیکیشن بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے چیئرمین نیکا بورڈ اویس لغاری کو حکم دیا کہ فیصلہ بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے۔
مزید برآں، عدالت نے نیکا بورڈ کو ہدایت دی کہ وہ غیر قانونی گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے ذمہ داران کا تعین کرے اور متعلقہ کارروائی عمل میں لائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ سپریم کورٹ نیکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ سپریم کورٹ نیکا
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔