نیکا ڈائریکٹر کی تعیناتی غیرقانونی قرار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا) کے ڈائریکٹر ایس ایم او صبیح حیدر کی تعیناتی غیرقانونی قرار دے دی۔ عدالت نے کہا کہ ڈائریکٹر اسٹریٹیجی مینجمنٹ آفس کے عہدے کی تخلیق بھی غیر قانونی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (نیکا)کے سینئر اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ساجد حسین کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا جس میں ادارے کے ڈائریکٹر ایس ایم او)اسٹریٹیجی مینجمنٹ آفس (صبیح حیدر کی تعیناتی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ڈائریکٹر اسٹریٹیجی مینجمنٹ آفس کے عہدے کی تخلیق اور اس پر کی جانے والی تعیناتی غیر قانونی ہے۔ نیکا بورڈ جائزہ لے کہ وہ ترمیمی ریگولیشنز نیکا بورڈ کی منظوری کے بغیر کیسے گزٹ میں شائع ہوئیں؟
سرکاری گزٹ میں ان ترامیم کی اشاعت کی ذمہ داری طے کی جائے جو کبھی نیکا بورڈ سے منظور ہی نہیں کی گئیں۔
نیکا بورڈ غیر منظور شدہ ترامیم کے اشاعت کی ذمہ داری طے کرے۔ عدالت نے فیصلے کی کاپی چیئرمین نیکا بورڈ کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیکا بورڈ
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔