پاکستان ، آئی ایم ایف کے آگے ڈھیر،ا گلی قسط کیلئے بجلی اور گیس مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرادی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
حکومت نے 23شرائط مان لیں، توانائی، مالیاتی، سماجی شعبے، اسٹرکچرل، مانیٹری اور کرنسی وغیرہ شامل ہیں، سرکاری ملکیتی اداروں کے قانون میں تبدیلی کیلئے اگست 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی
ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کیلئے کھاد اور زرعی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جائیگی، ہائی ویلیو سرجری آئٹمز پر سیلز ٹیکس شرح عائد، ترقیاتی اسکیموں میں کمی لائی جائے گی، حکومت کا اتفاق
نئے قرض روگرام کیلئے پاکستان نے آئی ایم ایف کی 23شرائط مان لیں، جن میں توانائی، مالیاتی، سماجی شعبے، سٹرکچرل، مانیٹری اور کرنسی وغیرہ شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی درجنوں نئی شرائط میں کھاد، زرعی ادویات، شوگر اور سرجری آئٹمز پر ٹیکس لگانے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے، جس پر عملدرآمد کی یقین دہانی حکومت نے کرا دی۔آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے مشن کے تحت اگلی قسط کیلئے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں درجنوں نئی شرائط سامنے آگئیں ، تاہم اس قرض پروگرام کیلئے پاکستان نے آئی ایم ایف کی 23شرائط مان لیں۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ ترقیاتی سکیموں میں کمی لائی جائے گی، ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے لیے لگائی جانیوالی ان شرائط میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ایکسائز ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافہ کرنا، اعلیٰ قیمت والی میٹھی اشیاء پر ایکسائز ڈیوٹی متعارف کرانا اور منتخب اشیاء کو معیاری شرح پر منتقل کر کے سیلز ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنا شامل ہے۔ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کے لیے کھاد اور زرعی ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جائے گی، ہائی ویلیو سرجری آئٹمز پر استنثیٰ ختم کر کے سیلز ٹیکس شرح عائد دی جائے گی۔ ادھر آئی ایم ایف نے سرکاری ملکیتی اداروں کے قانون میں تبدیلی کیلئے اگست 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی، جبکہ ریونیو شارٹ فال پورا نہ ہونے کی صورت میں ایف بی آر نے مزید ٹیکس لگانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔بتایا گیا ہے کہ توانائی شعبے میں اصلاحات، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، لاگت میں کمی کیلئے اصلاحات جاری رکھی جائیں گی، رواں مالی سال کے دوران مرکزی بینک کی مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک رہنے کی توقع ہے، آئندہ دو برسوں تک ملک بھر میں تمام بڑے 40 ہزار ریٹیلرز پر پوائنٹ آف سیلز سسٹم نصب کیا جائے گا۔ 40 ہزار بڑے خوردہ فروشوں کے لیے ملک گیر پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کی تنصیب اگلے دو سالوں میں مکمل ہو جائے گی، جبکہ چاروں صوبے ہم آہنگ سیلز ٹیکس طریقہ کار کی طرف بڑھیں گے۔آئی ایم ایف کی پاکستان سے متعلق جاری رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبے میں تمام صوبوں نے بجلی اور گیس پر کوئی نئی سبسڈی نہ دینے سے اتفاق کیا ، نئے آر آیل این جی کیلیے اضافی بیرونی معاہدے کرنے سے بھی روک دیا گیا، اوگرا کو 40روز کے اندر ٹیرف کے تعین کی ایڈوائس دی جائے گی، جس کا نوٹیفکیشن جلد ہی جاری ہوجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 کے دوران 52 لاکھ اور سال 2025 کیلئے 70 لاکھ انکم ٹیکس ریٹرن فائل ہوئی، ایم ای ایف پی میں چاروں صوبوں کے درمیان سیلز ٹیکس پر ہم آہنگی پیدا کی جائے گی، مالی سال 2027 کے دوران نئے منصوبوں پر صرف پی ایس ڈی پی کا 10 فیصد خرچ کیا جائے گا، پی ایس ڈی پی میں تقریبا 25 سو ارب روپے کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ مالی سال کے دوران سے موسمیاتی تبدیلی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی، پبلک پروکیورمنٹ میں شفافیت لانے کیلئے ای پیڈز کا استعمال کیا جائے گا، ای پیڈز کے استعمال پر آڈیٹر جنرل آف پاکستان مارچ 2026 تک رپورٹ صدر مملکت کو فراہم کرے گا۔ جنوری 2026 سے کفالت پروگرام کے تحت سہہ ماہی بنیادوں پر رقم بڑھا کر ساڑھے 14 ہزار دی جائے گی، کفالت پروگرام میں مستحق افراد کی تعداد کو بڑھا کر 1 کروڑ 2 لاکھ تک دائرہ وسیع کیا جائے گا، ٹیرف ریبیسنگ جولائی کی بجائے جنوری 2026 سے کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم ہو کر 16 سو 14 ارب روپے تک محدود ہو گیا، کمرشل بینکوں کیساتھ جنوری 2026 تک 1۔2 ٹریلین روپے کے معاہدے کی سیٹلمنٹ ہو جائے گی، جس میں سے 660 ارب روپے پرائیویٹ ہولڈنگ لمیٹڈ اور باقی سی پی پی سے کو ادا کیے جائیں گے۔کسی بھی سرمایہ کاری کے پروجیکٹ یا کمپنی کوہر قسم کی مالی مراعات یا گارنٹی کی پیشکش سے بھی روک دیاگیا، کوئی بھی ایندھن پر فیول سبسڈی نہیں دی جائے گی یا کسی بھی کراس سبسڈی سکیم کا اجرا نہیں کیاجائے گا،کسی قسم کے سیکٹورل قرضوں کی فراہمی کے اہداف یا قرضوں کو مختص کرنے کے فیصلے نہیں کیے جائیں گے۔ کنٹری رپورٹ کے مطابق گردشی قرضہ میں کمی کیلئے 128 ارب روپے کی آئی پی پیز سے سود کی رقم کو ختم کرایا جائے گا، مالی سال 2031 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ زیرو ان فلو رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی، اس کے ساتھ ہی نیا قرض پروگرام: پاکستان نے آئی ایم ایف کی 23شرائط مان لیں۔ادھر سٹیٹ بینک سے حکومتی سکیورٹیز کے خاتمے پر مزید توسیع یا مارکیٹ خریداری کو بھی ختم کردیاگیا ہے، قرض پروگرام کے دوران سٹیٹ بینک کوئی نئی قرضے کی سکیم متعارف نہیں کرائے گا، جبکہ اس دوران کرنسی کی قدر کو لچکدار رکھا جائے گا۔ گندم خریداری کے عمل کیلیے وفاقی یا صوبائی امدادی قیمت مقرر کرنے، درآمد ات پر کسی قسم کی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی متعارف کرانے سے بھی روک دیاگیا ہے، ایس آئی ایف سی سرمایہ کاری کیلیے کسی قسم کی مراعات تجویز کریگی اور نہ ہی حکومت ٹیکس مراعات یا گارنٹی فراہم کرے گی اور ایس آئی ایف سی کے تحت آنیوالی تمام سرمایہ کاری سٹنڈرڈ پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت ہونے کو یقینی بنایا جائے۔آئی ایم ایف نے نئے سپیشل اکنامک زونز بنانے یا دیگر زون بنانے اور ان زون کو کسی قسم کی مراعات دینے اور موجودہ مراعات کی تجدید سے بھی روک دیا ہے۔ ادائیگیوں کے بڑھتے خسارے اور فنڈ کے زیرِ کفالت پروگرام کی میعاد ختم ہونے کے بعد اس خسارے کا 3۔3 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھونے کے درمیان، پاکستان نے کھاد، کیڑے مار ادویات، اور میٹھی اشیاء پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے ساتھ ساتھ منتخب اشیاء پر جی ایس ٹی کی شرح کو معیاری 18 فیصد تک بڑھانے پر آئی ایم ایف کے ساتھ اتفاق کر لیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ریونیو شارٹ فال پورا کرنے پاکستان نے ا ئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق ا ئی ایم ایف کی 23شرائط مان لیں ایکسائز ڈیوٹی کی یقین دہانی کیا جائے گا دی جائے گی سے بھی روک سیلز ٹیکس ارب روپے کے دوران مالی سال کرنے کے قسم کی گیا ہے کے تحت
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔