فلسطینیوں کی بےدخلی کی ہرصورت کو مسترد کرتے ہیں: مصر
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصر نے فلسطینیوں کی بےدخلی اور غزہ میں کسی بھی جغرافیائی یا آبادیاتی تبدیلی کو مسترد کر دیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مصر کے وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے واضح کیا ہے کہ مصر ہر اُس کوشش کو سختی سے مسترد کرتا ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو بے دخل کرنا یا غزہ کی پٹی کی جغرافیائی یا آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا ہو۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بات مصر کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے فون پر گفتگو کے دوران کہی، انہوں نے اقوام متحدہ کے سربراہ سے غزہ کی تازہ صورتِ حال، غزہ میں جنگ بندی کے استحکام اور بین الاقوامی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
مصری وزارتِ خارجہ کے ترجمان تمیم خلاف کے مطابق وزیر خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے، سلامتی کونسل کی قرارداد 2803ء پر عمل درآمد اور انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی پر زور دیا، انہوں نے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کے لئے جاری مشاورت کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کی تشکیل کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی راہ ہموار ہو گی، انہوں نے روزانہ کی بنیاد پر انسانی امداد کی مقدار بڑھانے اور علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون پر بھی زور دیا تاکہ فلسطینی عوام کو ان کے حقِ خود ارادیت کی حمایت مل سکے۔
مصری وزیر خارجہ نے مغربی کنارے میں بگڑتی صورتحال خاص طور پر آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور زمینوں کی مسلسل ضبطی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں اور عالمی برادری کی فوری مداخلت ناگزیر ہے۔
مصری وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کے ناگزیر کردار پر بھی زور دیا، انہوں نے جنرل اسمبلی کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت یو این آر ڈبلیو اے کی مدت تین سال کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ فلپ لازارینی کا فون بھی موصول ہوا، جس میں ادارے کی جانب سے موجودہ حساس حالات میں انسانی امداد اور خدمات کی فراہمی بارے تفصیل دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز