35 ویں نیشنل گیمز: 15 سالہ مدیحہ نے ویٹ لفٹنگ میں والدہ کو ہراکر سلور میڈل جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
کراچی میں جاری 35 ویں نیشنل گیمز لاہور سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ مدیحہ نے ویٹ لفٹنگ کے مقابلے میں اپنی والدہ ظاہرہ زبیر کو ہرا کر سلور میڈل حاصل کرلیا۔
86 کلوگرام کی کلاس میں مدیحہ نے 129 کلو وزن اٹھا کر سلور میڈل حاصل کیا جبکہ ان کی والدہ ظاہرہ نے مجموعی طور پر 108 کلو وزن اٹھایا۔
گھر کے دیگر 3 افراد بھی مقابلے میں شاملویٹ لفٹنگ کے ان مقابلوں میں لاہور سے تعلق رکھنے والی مدیحہ کے گھر کے 4 دیگر افراد حصہ لے رہے ہیں جن میں والدہ ظاہرہ، والد محمد زبیر منظور، پھوپھی صائمہ اورچچا زہیب منظور شامل ہیں۔
ماں تو ماں ہوتی ہےمیڈل نہ جیتنے کے باوجود ظاہرہ زبیر بیحد خوش تھیں کہ ان کی بیٹی نے ایونٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔
مدیحہ نے جیت کے بعد کہا کہ انہیں بچپن سے ہی ویٹ لفٹنگ کا ماحول ملا کیونکہ ان کے والد، دادا اور والدہ سب ویٹ لفٹرز ہیں۔
مدیحہ کی خواہش دادا کی طرح نام پیدا کرناوہ نیشنل گیمز میں میڈل جیت کر خوش ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے دادا اولمپیئن محمد منظور کی طرح اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔
مدیحہ کے والد محمد زبیر پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل گیمز میں حصہ لے رہے ہیں۔
مدیحہ کے دادا محمد منظور نے سنہ 1976 کے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
35ویں قومی گیمز بیٹی نے ماں کو ہرادیا ویٹ لفٹنگ مقابلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 35ویں قومی گیمز بیٹی نے ماں کو ہرادیا ویٹ لفٹنگ مقابلہ نیشنل گیمز ویٹ لفٹنگ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔