کراچی میں جاری 35 ویں نیشنل گیمز لاہور سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ مدیحہ نے ویٹ لفٹنگ کے مقابلے میں اپنی والدہ ظاہرہ زبیر کو ہرا کر سلور میڈل حاصل کرلیا۔

86 کلوگرام کی کلاس میں مدیحہ نے 129 کلو وزن اٹھا کر سلور میڈل حاصل کیا جبکہ ان کی والدہ ظاہرہ نے مجموعی طور پر 108 کلو وزن اٹھایا۔

گھر کے دیگر 3 افراد بھی مقابلے میں شامل

ویٹ لفٹنگ کے ان مقابلوں میں لاہور سے تعلق رکھنے والی مدیحہ کے گھر کے 4 دیگر افراد حصہ لے رہے ہیں جن میں والدہ ظاہرہ، والد محمد زبیر منظور، پھوپھی صائمہ اورچچا زہیب منظور شامل ہیں۔

ماں تو ماں ہوتی ہے

میڈل نہ جیتنے کے باوجود ظاہرہ زبیر بیحد خوش تھیں کہ ان کی بیٹی نے ایونٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔

مدیحہ نے جیت کے بعد کہا کہ انہیں بچپن سے ہی ویٹ لفٹنگ کا ماحول ملا کیونکہ ان کے والد، دادا اور والدہ سب ویٹ لفٹرز ہیں۔

مدیحہ کی خواہش دادا کی طرح نام پیدا کرنا

وہ نیشنل گیمز میں میڈل جیت کر خوش ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے دادا اولمپیئن محمد منظور کی طرح اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔

مدیحہ کے والد محمد زبیر پولیس کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل گیمز میں حصہ لے رہے ہیں۔

مدیحہ کے دادا محمد منظور نے سنہ 1976 کے اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

35ویں قومی گیمز بیٹی نے ماں کو ہرادیا ویٹ لفٹنگ مقابلہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 35ویں قومی گیمز بیٹی نے ماں کو ہرادیا ویٹ لفٹنگ مقابلہ نیشنل گیمز ویٹ لفٹنگ

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور