کراچی، 24 گھنٹے کے دوران 2 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد کے ای چالان جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سیٹ بیلٹس کی خلاف ورزی پر 2290، اووراسپیڈنگ پر 845، بغیر ہیلمیٹ پر 655 چالان کئے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چالان نظام کے نفاذ کے بعد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں جاری ہیں، ٹریفک پولیس نے چوبیس گھنٹوں کے دوران 2 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد کے 4301 الیکٹرانک چالان جاری کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چالان نظام کے نفاذ کے بعد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں جاری ہیں، ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چالان نظام کے تحت مجموعی طور پر 4301 الیکٹرانک چالان جاری کر دیئے گئے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق سیٹ بیلٹس کی خلاف ورزی پر 2290، اووراسپیڈنگ پر 845، بغیر ہیلمیٹ پر 655 چالان کئے گئے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ے کہ ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی پر 306، موبائل فون کے استعمال پر 162، رانگ وے پر 33 چالان کئے گئے۔ ترجمان ٹریفک کے مطابق لین لائن کے غلط استعمال پر 21، غیر قانونی پارکنگ پر 15، اوورلوڈنگ 4، رانگ وے پر ون وے اسٹریٹ پر 16، کالے شیشوں پر 3، اسٹاپ لین کی خلاف ورزی پر 6 غلط پارکنگ پر 15 چالان کیے گئے ہیں۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق فیس لیس ای ٹکٹنگ نظام کے افتتاح کے بعد ابتدائی 6 گھنٹوں میں 2662 اور منگل کے روز رات 12 بجے تک مجموعی طور پر 4301 ای ٹکٹ جاری کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی پر ترجمان ٹریفک ٹریفک پولیس کے مطابق نظام کے
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔