data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی : ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چالان نظام کے نفاذ کے بعد شہرِ قائد میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے اور صرف چوبیس گھنٹوں کے دوران 4301 الیکٹرانک چالان جاری کیے گئے جن کی مجموعی مالیت 2 کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ای چالان سسٹم کے آغاز کے بعد شہریوں کی نگرانی جدید کیمروں اور خودکار ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر کیے گئے جن کی تعداد 2290 رہی۔ اسی طرح اوور اسپیڈنگ پر 845، بغیر ہیلمٹ کے سفر کرنے پر 655 جب کہ ریڈ سگنل توڑنے پر 306 موٹر سائیکل سوار اور ڈرائیور قانون کی زد میں آئے۔

اسی طرح موبائل فون کے استعمال پر 162، غلط سمت میں گاڑی چلانے (رانگ وے) پر 33، لین لائن کے غلط استعمال پر 21، غیر قانونی پارکنگ پر 15، اوورلوڈنگ پر 4 اور کالے شیشوں کے استعمال پر 3 چالان کیے گئے۔ اس کے علاوہ اسٹاپ لائن اور ون وے کی خلاف ورزی پر بھی متعدد گاڑیوں کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ فیس لیس ای ٹکٹنگ سسٹم کے آغاز کے ابتدائی 6 گھنٹوں میں ہی 2662 چالان جاری کیے گئے تھے، جو رات 12 بجے تک بڑھ کر 4301 تک پہنچ گئے۔ اس نظام کے تحت شہریوں کو براہ راست اہلکاروں سے رابطے کے بغیر خودکار طریقے سے چالان موصول ہوتے ہیں، جس سے شفافیت میں اضافہ اور رشوت ستانی کے امکانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق ای چالان نظام ٹریفک قوانین کی پاسداری یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے شہر میں گاڑیوں کی نقل و حرکت، سگنل کی خلاف ورزیوں، رفتار اور پارکنگ کے نظم کو جدید انداز میں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں تاکہ نہ صرف حادثات میں کمی لائی جا سکے بلکہ شہر میں ٹریفک کے بہاؤ کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون سے یہ نظام مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد سزا نہیں بلکہ شہریوں میں نظم و ضبط اور احتیاط کی عادت پیدا کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کیے گئے

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ

اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔

سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب