ای چالان اسی کے پاس جائیگا جس کے نام پر گاڑی رجسٹر ہوگی: وزیرداخلہ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
وزیرداخلہ سندھ ضیا لنجار نے کہا ہے کہ ای چالان اسی کے پاس جائے گا جس کے نام گاڑی رجسٹریشن ہوگی۔ضیا لنجار نےکہا کہ کراچی میں جہاں ٹریفک سگنل ہوگا تو ای چالان ہوگا، ٹریفک سگلنلز کے ساتھ نصب کیمرے ایک ماہ میں فعال کردیں گے جب کہ ایک سےڈیڑھ سال میں کراچی شہر میں 12ہزار کیمرے لگا لیں گے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کراچی میں2600چالان ہوئے اور کراچی جیسے بڑے شہر میں 2600چالان کچھ بھی نہیں۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ موٹرسائیکل کے 2 قسم کے چالان ہوں گے اور ای چالان اسی کے پاس جائے گا جس کے نام گاڑی رجسٹریشن ہوگی جب کہ یہ بھی جرم ہے کہ آپ کی گاڑی فروخت کے بعد بھی آپ کے نام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 10ہزار ٹریلر ،ٹینکرز رجسٹرڈ کیے اورٹریکر لگائے، ہیوی ٹریفک میں یہ ٹریکرز بھی ای چالان سسٹم سے منسلک ہیں، شہر میں جیسے ہی یہ ٹریلر یا ٹینکر 30 کلومیٹر فی گھنٹہ سے رفتار بڑھائیں گے تو ای چالان ہوجائیگا،یہ سسٹم فینسی نمبر پلیٹ کی بھی شناخت کرسکتا ہے۔ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر مختلف علاقوں میں ڈرائیونگ لائسنس ٹریننگ سینٹرز بھی بنا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے نام
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔