بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: کراچی میں بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے والوں کے لیے سخت کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اب بغیر ڈرائیونگ لائسنس موٹر سائیکل یا گاڑی چلانے پر 20ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ شہری اپنے ڈرائیونگ لائسنس فوری طور پر بنوائیں یا تجدید کروائیں، کیونکہ آئندہ کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق ٹریفک قوانین کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے شہر بھر میں مہم تیز کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں موٹر سائیکل سواروں کی بڑی تعداد لائسنس کے بغیر سڑکوں پر نکلتی ہے، جس کے باعث حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ایسے تمام افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ پیر محمد شاہ نے واضح کیا کہ تمام چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کے لیے اسپیڈ لمٹ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، اور اس سے تجاوز کرنے والے ڈرائیورز کو اوور اسپیڈنگ کا چالان کیا جائے گا۔
لیسکو کی جانب سے سنگل فیز اسمارٹ میٹر کی قیمت مقرر
انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس شہر میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے جدید نظام متعارف کرا چکی ہے، جس کے تحت اب فیس لیس ای چالان سسٹم کے ذریعے خلاف ورزیاں خودکار طریقے سے ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ اس نظام کے پہلے دن ہی صرف چھ گھنٹوں میں 2 ہزار 662 چالان جاری کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے رہی۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ چالان سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر کیے گئے جن کی تعداد 1,535 رہی، جبکہ ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلانے پر 507 چالان ہوئے۔ اس کے علاوہ اوور اسپیڈنگ پر 419، ریڈ سگنل توڑنے پر 166 اور لین لائن کی خلاف ورزی پر 3 چالان جاری کیے گئے۔
امتحانات سے قبل ہی لاہور بورڈ کی نااہلی سامنے آگئی
پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ ای چالان سسٹم میں تکنیکی بہتری کا عمل جاری ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والے شہریوں کو فوری نوٹس بھیجا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ای چالان باقاعدگی سے چیک کریں اور جرمانے کی رقم وقت پر جمع کروائیں، بصورت دیگر ان کے لائسنس معطل یا گاڑیاں ضبط کی جا سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فیس لیس چالان سسٹم کے ذریعے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان براہ راست رابطہ کم ہو جائے گا جس سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور رشوت ستانی کے امکانات بھی ختم ہوں گے۔ ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کریں، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنائیں اور اپنی اور دوسروں کی جانوں کو محفوظ رکھیں۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو خبردار کر دیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل شہریوں کو انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔