کارساز حادثہ کیس : ملزمہ نتاشا کے گواہان کے وارنٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سٹی کورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں کارساز حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشا کے خلاف امتناع منشیات کیس کی سماعت ہوئی، جہاں عدالتی حکم کے باوجود استغاثہ کے گواہان غیر حاضر تھے۔ عدالت نے گواہوں کی غیر حاضری پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیئے۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر گواہان کو گرفتار کرکے پیش کیا جائے۔ ملزمہ نتاشا اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئی، عدالت نے مقدمے کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کردی۔ ملزمہ کے خلاف امتناع منشیات کا مقدمہ بہادرآباد تھانے میں سرکاری مدعیت میں درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔