Express News:
2026-06-03@02:19:47 GMT

خطرات کی زد میں (حصہ اول)

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

موجودہ صدی پوری دنیا کے لیے بے شمار خطرات اپنے ساتھ لے کر آئی ہے، زمینی و سماوی آفات کا کوئی شمار نہیں ہے، اس کے علاوہ انسان کی اپنی پیدا کردہ تکالیف اپنی جگہ ہیں۔ پاکستان میں تو ایسی صورتحال زمانہ بعید سے زمانہ قریب تک جوں کی توں ہے بلکہ مصائب و مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔

ان مشکلات کی خاص وجہ ناخواندگی ہے، جب تعلیم سے دوری ہو جاتی ہے تب انسان تہذیب، شرافت، ہمدردی اور رحم جیسی صفات سے محروم ہو جاتا ہے۔ ساتھ میں والدین کا بھی کردار ہے وہ اپنے بچوں پر بالکل توجہ نہیں دیتے ہیں۔

فی زمانہ ایسی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ جانوروں نے اپنے عمل سے انسانوں جیسی عادات اور عفو و درگزرکو اپنا کر مثال قائم کر دی ہے۔ بلی،کتے اور دوسرے جنگلی جانور ایک دوسرے کے لیے مددگار بن گئے ہیں، زخمی اور مجبور اپنے ہم جنس جانوروں کی مدد اور ان کے بچوں کو گود لے کر ماں جیسا سلوک کرتے ہیں، لیکن آج کا انسان درندہ صفت بن چکا ہے۔

چند سکوں کی خاطر اپنے ہی بھائی کا خون کردیتا ہے، سفاکی کی انتہا نے اپنے والدین، بہن بھائیوں کو تھوڑے سے فائدے یا معمولی سے لڑائی جھگڑے پر جان سے مار دیتا ہے۔ اسلام سے قبل جس قدر ظالمانہ رسمیں اور طور طریقے رائج تھے، وہ سب آج کے زمانے میں لوگوں نے اپنا لیے ہیں۔

 طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک سڑکوں، شاہراہوں اور گھروں میں جنم لینے والے سانحات اپنے ساتھ قیامت لے کر آتے ہیں۔ نوحہ، بین اور گریہ و زاری متاثرہ علاقوں کو قبرستان میں بدل دیتی ہے۔ یہ تو ہمارے ملک میں ہونے والے روزمرہ کے خونی واقعات ہیں لیکن ذرا آگے دیکھیں دوسرے ملکوں کے حالات کو تو دل تڑپ جاتا ہے۔

غزہ میں ہزاروں لوگ شہید اور سیکڑوں بچوں کو والدین سے جدا کردیا گیا۔ ان کے جسم سے گوشت ختم ہوگیا لیکن ظالموں کو رحم نہیں آتا، ہر روز بمباری اور جاتے جاتے بھی مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگ گئے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

سیکڑوں صحافیوں کو ابدی نیند سلانے کے بعد معروف صحافی صالح الحفراوی بھی شہید کر دیے گئے۔ جنگ بندی کے تاریخی امن معاہدے پر دستخط 20 سربراہان مملکت نے کیے۔

اس امن معاہدے کے باوجود غزہ، حماس و غمش میں جھڑپوں کے نتیجے میں 27 کی ہلاکت کی خبر ہے، پاکستانی سرحد پر بھی جھڑپیں جاری ہیں، ان جھڑپوں میں 200 افغان طالبان اور خوارج مارے گئے۔ پاک فوج کے 23 جوان شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔

کشمیر میں بھی مودی کی بربریت نے ہر گھرکا سکون برباد کر دیا ہے۔ کشمیری رہنما یٰسین ملک کی سزائے موت کے خلاف آواز اٹھانے اور اسلامی ملکوں کی تائید ضروری ہے، یٰسین ملک کا جرم اتنا ہی تو ہے کہ وہ آزادی کا استعارہ ہیں۔

شرم آنی چاہیے ہندوستان کے مقتدر حضرات کو، وہ روز اول سے ہی پاکستان کے حصے میں جو خطے آئے تھے، ان کے حصول کے لیے خون کی ندیاں بہا رہے ہیں۔

اگر 57 ملکوں کے اسلامی سربراہان ان دنوں ہی سے اتحاد کی شکل میں سامنے آتے اور اپنے مسلمان بھائیوں کو صہیونیوں، نصرانیوں اور اہل ہنود کے مظالم اور درندگی سے بچانے کے لیے بیانات کے ساتھ عملی اقدامات کرتے تو آج مسلمان کفارکی ایذا رسانی سے بچ سکتے تھے۔

یہ تو پاکستان اور باہرکی دنیا کے حالات تھے جہاں ہر مسلمان ہی ناانصافی، درندگی اور بربریت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اب رہے پاکستان کے اندرونی حالات یہاں امن و سکون عنقا ہو چکا ہے۔

پاکستان اور بیرون پاکستان کے دانشور، علما، اساتذہ، اہل علم و فن، عام شہری، مچھلی پھل اور چاٹ فروخت کرنے والے بھی ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کہ ملک میں انصاف قائم کیا جائے۔غریب عوام کے انصاف دیا جائے ،مظلوم عوام کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟ ان حالات میں عوام معجزے کا انتظار کر رہے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ صاحبان اقتدار اپنے اعمال نامے کا جائزہ لیں اور انھیں حق کے ترازو میں تولیں اور پھر جو بھی نتیجہ آئے اس کو قبول کر لیں ، اگر نیکی کا پلڑا بھاری ہوا تو رب جلیل مالک کائنات کے حضور سجدہ شکر بجا لائیں کہ اس دور میں وہ گناہ کبیرہ سے دور رہا۔

پاکستان کا ہر خطہ بنیادی ضرورتوں سے محروم ہے، بلوچستان میں بھی ناانصافی اور مفاد پرستی عروج پر ہے وہاں پر بسنے والے خاندان کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ اپنوں کی مدد کی طالب ہیں ان کے گھر بار اور بچے بے آسرا ہو چکے ہیں اس جگہ انصاف اور امن کی روشنی کو پھیلانے کی ضرورت ہے یہ ہمارے ہی مسلمان بھائی ہیں۔

بلوچستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ وہاں کا قبائلی نظام ہے،قبائلی سردار اپنے ہی لوگوں کی تعلیم،صحت کی بہتر سہولتوں، بہتر روزگار اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔قبائلی سردار اپنے لوگوں کو پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ جب تک لوگ پسماندہ رہیں گے ،قبائلی نظام کو تحفظ ملتا رہے گا،قبائلی نظام کی بقا لوگوں کی پسماندگی اور جہالت میں مضمر ہے۔

 (جاری ہے۔)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی

خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان