آسٹریلیا نے پاکستان کو ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ اپنے نام کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلیا نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے ہرا کر اوور 40 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا تاج اپنے سر سجا لیا۔
نیشنل بینک اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا جانے والا فیصلہ کن میچ میزبان ٹیم کے لیے مایوس کن ثابت ہوا، جہاں سابق ٹیسٹ کرکٹر فواد عالم کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی بھی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی۔
فائنل میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کی ٹیم 150 رنز بنا کر محدود ہوگئی۔ ابتدائی بیٹنگ لائن اپ ناکام رہی اور ٹیم 9 وکٹیں کھو کر مقررہ اوورز مکمل کر سکی۔ فواد عالم اور ندیم جاوید نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 24، 24 رنز جوڑے، تاہم آسٹریلوی بولر کیرلی نے تباہ کن اسپیل کے ساتھ 22 رنز کے عوض 5 پاکستانی بلے بازوں کو میدان بدر کر کے گرین شرٹس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے پراعتماد انداز میں بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر میچ اپنے نام کر لیا۔ اسٹیف نوٹلی نے 40 گیندوں پر 47 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جبکہ اسٹیفن پیلسن 34 گیندوں پر 42 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ فواد عالم نے بولنگ میں بھی دو کامیابیاں سمیٹیں، مگر اُن کی محنت رائیگاں گئی۔
میچ سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ ممتاز آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی بھی فائنل میں ایکشن میں نظر آئیں گے، تاہم وہ ٹیم کا حصہ نہ بن سکے، جس پر شائقین کرکٹ شدید مایوس دکھائی دیے۔
ٹورنامنٹ ایوارڈز میں پاکستان کے ہمایوں فرحت نے 312 رنز بنا کر بہترین بیٹر کا اعزاز اپنے نام کیا، جب کہ آسٹریلیا کے مارک کیلری 19 وکٹیں حاصل کر کے بہترین بولر قرار پائے۔ ہانگ کانگ کے خالد قریشی بہترین وکٹ کیپر اور ریسٹ آف ورلڈ کے ہر شاد بہترین فیلڈر قرار دیے گئے۔
سب سے زیادہ چھکے لگانے کا اعزاز بھی ہمایوں فرحت کے حصے میں آیا، جنہوں نے ایونٹ میں 23 چھکے جڑے۔ ویسٹ انڈیز کے انٹونیل اٹولیا کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ منتخب کیا گیا۔
ایوارڈز کی تقسیم چیئرمین انٹرنیشنل ماسٹرز کرکٹ کونسل اسٹرلنگ ہیمین نے انجام دی۔ تقریب میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز جاوید میانداد، مشتاق محمد، صادق محمد، جلال الدین اور پاکستان ویٹرنز کرکٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فواد اعجاز خان سمیت دیگر معزز مہمان بھی شریک تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔