لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کم سن بچیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ، عدالت نے اعلیٰ حکام کو طلب کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کم سن بچیوں کے مبینہ اغوا کا معاملہ، عدالت نے اعلیٰ حکام کو طلب کرلیا WhatsAppFacebookTwitter 0 24 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاہور اور بہاولپور سے خاتون اور کم سن بچیوں کے مبینہ اغوا کے معاملے پر متاثرہ خاندان کے خلاف درج مقدمات کے اخراج کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی ایس پی سی آئی اے کو منگل کے روز ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو جے آئی ٹی تشکیل دے کر بچیوں کے اغوا کے معاملے کی تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ لاہور سے 17 ستمبر کو تین بچیوں اور ان کی والدہ کو اٹھایا گیا، جبکہ پولیس نے 20 ستمبر کو ترنول پولیس اسٹیشن میں انہی بچیوں اور ان کی والدہ کو ایف آئی آر میں نامزد کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا، جو انتہائی تشویشناک عمل ہے۔عدالت نے کیس میں شامل تفتیشی افسر کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “کیوں نہ آپ کو گھر بھیج دیا جائے”۔دورانِ سماعت عدالت میں بچوں اور گھریلو خاتون سمیت گھر کا سامان، کیش اور گاڑیاں اٹھانے کی ویڈیوز بھی چلائی گئیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعلیٰ پولیس و تحقیقاتی حکام کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت منگل تک ملتوی کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان نے مہاجرین کو سینے سے لگایا، ہندوستان ہرا نہیں سکتا: وزیراعظم آزاد کشمیر پاکستان نے مہاجرین کو سینے سے لگایا، ہندوستان ہرا نہیں سکتا: وزیراعظم آزاد کشمیر ڈپٹی ڈائریکٹر سینیٹ چوہدری ناصر رفیق کے والد انتقال کر گئے علی ترین کی پی سی بی پر شدید تنقید، لیگل نوٹس پھاڑ دیا وفاقی حکومت نے رواں مالی سال میں کتنا قرضہ لیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں آزاد کشمیر حکومت کیساتھ اتحاد قائم رکھا جائے یا نہیں؟،پی پی قیادت کا اجلاس کل طلب وزیراعظم سے پولینڈ کے نائب وزیراعظم کی ملاقات، تعاون مزید مستحکم کرنے کیلئے رابطے بڑھانے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔