اسلام آباد: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور متحدہ عرب امارات کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے درمیان گزشتہ رات دیر گئے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:عالمی مقابلہ حسن: مریم محمد یو اے ای کی نمائندگی کرنے کے لیے پرعزم
وزارتِ خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اور کثیرالجہتی امور کے ساتھ ساتھ حالیہ علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ، اقتصادی و تجارتی روابط کے استحکام، اور عالمی سطح پر مشترکہ اہداف کے حصول پر زور دیا گیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ علاقائی استحکام اور ترقی کے اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار پاکستان عرب امارات وزرائے خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار پاکستان عرب امارات
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔