بھارت کے سابق اسپنر ہرڀجن سنگھ نے کہا ہے کہ روہت شرما اور ویرات کوہلی 2027 ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم کے ’پہلے 2 نام‘ ہونے چاہییں۔ ان کے مطابق اگر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے تجربہ کار اسٹارز کو نظرانداز کیا گیا تو بڑے میچز میں یہ بھارت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ویرات کوہلی نے پُوما چھوڑ کر ایجیلیٹاس اسپورٹس سے شراکت کرلی

جنوبی افریقہ کے خلاف شاندار سیریز کے بعد ہرڀجن نے اپنے یوٹیوب چینل پر کہا کہ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اور چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کو ’’جوان کھلاڑیوں کی تلاش میں تجربہ نہیں کھونا چاہیے۔

ہرڀجن کا کہنا تھا کہ روہت اور ویرات سے بہتر کھلاڑی موجود نہیں۔ ٹیم کو ان کے گرد کھڑا کرنا چاہیے۔ اگر تجربہ کھو دیا تو بڑے میچز میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں سینیئر بیٹسمین بہترین فارم میں ہیں اور فٹنس بھی برقرار رکھیں گے، اس لیے ورلڈ کپ کھیلنا ان کے لیے ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’پاکستان بھارت نہ آئے، کوئی فرق نہیں پڑتا‘ ہربھجن سنگھ

ہرڀجن نے گزشتہ ورلڈ کپ کے فائنل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پچ کی سست رفتار کی وجہ سے ہارا، لیکن روہت کی کپتانی اور دونوں بیٹسمینوں کی کارکردگی ’غیر معمولی‘ رہی۔

ویرات کوہلی نے حالیہ سیریز میں 302 رنز بنائے، جب کہ روہت شرما نے 148 رنز اسکور کیے۔ دونوں اس سال بھارت کی جانب سے او ڈی آئی میں سرفہرست رن اسکورر رہے۔

ہرڀجن نے واضح کیا کہ ورلڈ کپ 2027 ممکنہ طور پر ان دونوں کا آخری عالمی مقابلہ ہوسکتا ہے، اس لیے ٹیم میں ان کی موجودگی ’لازمی‘ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

روہت شرما ہر بھجن سنگھ ورلڈ کپ 2027 ویرات کوہلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: روہت شرما ہر بھجن سنگھ ورلڈ کپ 2027 ویرات کوہلی ویرات کوہلی ورلڈ کپ کے لیے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت