اقوامِ متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اپنے خصوصی پیغام میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی تعاون کے عزم کی تجدید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ کی 80ویں سالگرہ پر پاکستان کا عالمی تعاون، انصاف اور پائیدار ترقی کا عزم

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور میں درج اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور ان ہی اصولوں کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی کو استوار کرتا ہے۔

اقوامِ متحدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کا مؤثر فورم

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ دنیا کا سب سے نمائندہ کثیرالجہتی ادارہ ہے، جو بین الاقوامی امن و سلامتی، انسانی بحرانوں، ترقیاتی تفاوت اور ماحولیاتی خطرات جیسے بڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔

قائداعظم کے وژن کی روشنی میں خارجہ پالیسی

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کی روشنی میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں پر مبنی ہے، جن میں ریاستوں کی مساوات، عدم مداخلت، حقِ خود ارادیت اور تنازعات کا پرامن حل شامل ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ سفارتکاری کو تصادم پر، مکالمے کو تنہائی پر، اور شراکت داری کو تقسیم پر ترجیح دی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا فعال کردار

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے نظام میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی قبضے میں کشمیر کی سیاحت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

 1960 سے پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سب سے نمایاں دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ پاکستان میں اقوامِ متحدہ کا قدیم ترین امن مشن یو این ایم او جی آئی پی (UNMOGIP) بھی تعینات ہے۔

کشمیر اور فلسطین ، اقوامِ متحدہ کے اصولوں کا امتحان

اپنے پیغام میں وزیرِ خارجہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج خود ارادیت اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، خصوصاً بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) اور فلسطین میں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود دبایا جا رہا ہے، جبکہ غزہ انسانی ضمیر کا قبرستان بن چکا ہے۔

پاکستان — عالمی امن و انصاف کا علمبردار

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بطور غیر مستقل رکن اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل (مدت 2025-26)، پاکستان ایک پرامن، منصفانہ اور خوشحال دنیا کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ جولائی میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان نے اتفاقِ رائے پر مبنی فیصلوں کی روایت قائم کی، جو اس کے اصولی، متوازن اور شراکتی کردار کا ثبوت ہے۔

امن، ترقی اور انسانی وقار کے لیے عزمِ نو

یومِ اقوامِ متحدہ کے موقع پر پاکستان نے ایک بار پھر عہد کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور انسانی وقار کے مقاصد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے وعدوں کو زندہ رکھنے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے اپنے کردار کو مزید مؤثر بنائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

80 ویں سالگرہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ پاکستان فلسطین کشمیر مقبوضہ کشمیر نائب وزیر اعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 80 ویں سالگرہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ پاکستان فلسطین نے کہا کہ پاکستان خارجہ نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پر پاکستان کے اصولوں متحدہ کے کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟