’کشمیر اور فلسطین ، اقوامِ متحدہ کے اصولوں کا امتحان‘ یو این کی 80ویں سالگرہ پر پاکستان کا پیغام
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
اقوامِ متحدہ کے قیام کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے اپنے خصوصی پیغام میں عالمی برادری کے ساتھ مل کر کثیرالجہتی تعاون کے عزم کی تجدید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ کی 80ویں سالگرہ پر پاکستان کا عالمی تعاون، انصاف اور پائیدار ترقی کا عزم
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور میں درج اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور ان ہی اصولوں کے مطابق اپنی خارجہ پالیسی کو استوار کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ عالمی چیلنجز سے نمٹنے کا مؤثر فورم
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ دنیا کا سب سے نمائندہ کثیرالجہتی ادارہ ہے، جو بین الاقوامی امن و سلامتی، انسانی بحرانوں، ترقیاتی تفاوت اور ماحولیاتی خطرات جیسے بڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔
قائداعظم کے وژن کی روشنی میں خارجہ پالیسی
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائداعظم محمد علی جناح کے وژن کی روشنی میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں پر مبنی ہے، جن میں ریاستوں کی مساوات، عدم مداخلت، حقِ خود ارادیت اور تنازعات کا پرامن حل شامل ہیں۔
پاکستان نے ہمیشہ سفارتکاری کو تصادم پر، مکالمے کو تنہائی پر، اور شراکت داری کو تقسیم پر ترجیح دی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا فعال کردار
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے نظام میں متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی قبضے میں کشمیر کی سیاحت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی
1960 سے پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں سب سے نمایاں دستے بھیجنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ پاکستان میں اقوامِ متحدہ کا قدیم ترین امن مشن یو این ایم او جی آئی پی (UNMOGIP) بھی تعینات ہے۔
کشمیر اور فلسطین ، اقوامِ متحدہ کے اصولوں کا امتحان
اپنے پیغام میں وزیرِ خارجہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج خود ارادیت اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے، خصوصاً بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) اور فلسطین میں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود دبایا جا رہا ہے، جبکہ غزہ انسانی ضمیر کا قبرستان بن چکا ہے۔
پاکستان — عالمی امن و انصاف کا علمبردار
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ بطور غیر مستقل رکن اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل (مدت 2025-26)، پاکستان ایک پرامن، منصفانہ اور خوشحال دنیا کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ جولائی میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران پاکستان نے اتفاقِ رائے پر مبنی فیصلوں کی روایت قائم کی، جو اس کے اصولی، متوازن اور شراکتی کردار کا ثبوت ہے۔
امن، ترقی اور انسانی وقار کے لیے عزمِ نو
یومِ اقوامِ متحدہ کے موقع پر پاکستان نے ایک بار پھر عہد کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور انسانی وقار کے مقاصد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور کے وعدوں کو زندہ رکھنے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے اپنے کردار کو مزید مؤثر بنائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
80 ویں سالگرہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ پاکستان فلسطین کشمیر مقبوضہ کشمیر نائب وزیر اعظم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 80 ویں سالگرہ اسحاق ڈار اقوام متحدہ پاکستان فلسطین نے کہا کہ پاکستان خارجہ نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ پر پاکستان کے اصولوں متحدہ کے کے لیے
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎