یکطرفہ امریکی پابندیوں نے اقوام متحدہ کی ماہر کو مالیاتی نظام سے باہر دھکیل دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق فرانچیسکا البانیزے نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی صورتِ حال پر ان کی رپورٹس کے تناظر میں عائد امریکی پابندیوں نے عملاً انہیں ’عالمی مالیاتی نظام سے بے دخل‘ کر دیا ہے۔
دوحہ فورم میں شریک فرانچیسکا البانیزے نے الجزیرہ کو بتایا کہ یکطرفہ طور پر عائد کردہ ’غیرقانونی‘ امریکی پابندیاں ان کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو مٹانے کے لیے نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ
البانیزے نے بتایا کہ انہیں دنیا بھر سے دھمکیاں مل رہی ہیں، اور ان پر عائد امریکی پابندیوں نے ان کی بنیادی معاشی سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔
ان کے مطابق یکطرفہ جبری اقدامات نے انہیں ایک ایسی ’شخصیتِ غیر‘ بنا دیا ہے جو عالمی معاشی نظام میں اپنا وجود نہیں رکھ سکتی۔
’میں کریڈٹ کارڈ نہیں رکھ سکتی؛ مجھے دوسروں سے پیسے یا کارڈ ادھار لینے پڑتے ہیں، جبکہ کئی ممالک دوسرے کے نام کا کارڈ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔‘
پابندیوں کے عملی اثراتاقوام متحدہ کی نمائندہ البانیزے کے مطابق پابندیوں کے باعث ان کا امریکی میڈیکل انشورنس بھی ادائیگی سے انکار کر چکا ہے۔
اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ان کے نام سے بک کرایا گیا ہوٹل کمرا بھی منسوخ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ امریکا، اسرائیل اور دیگر ممالک انسانی حقوق کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔
’ہم کمزور تب ہوتے ہیں جب اکیلے ہوں‘فرانچیسکا البانیزے کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کے باوجود وہ نہ تو خاموش ہوں گی اور نہ ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹیں گی۔
’یہ ضروری ہے کہ لوگ سمجھیں کہ ہم صرف اس وقت کمزور ہوتے ہیں جب ہمیں تنہا کر دیا جائے۔‘
فرانچیسکا البانیزے اقوام متحدہ کی وہ ماہرہیں جنہوں نے غزہ میں جاری انسانی بحران، اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں کی صورتحال پر کئی تند و تیز رپورٹس شائع کیں۔
مزید پڑھیں: امریکا، برطانیہ، جرمنی اور مسلم ممالک پر غزہ کی نسل کشی میں شراکت داری کا الزام
مذکورہ رپورٹس میں انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو ممکنہ ’نسلی صفائی‘ اور ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے تناظرمیں دیکھا تھا۔
ان کے بیانات اور رپورٹس کے بعد امریکی حکومت نے انہیں پابندیوں کا نشانہ بنایا، جن کے تحت وہ امریکی مالیاتی نظام میں کسی اکاؤنٹ، کریڈٹ، سفری یا انشورنس سہولت تک رسائی نہیں رکھ سکتیں۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ایک موجودہ اقوامِ متحدہ کے نمائندہ کو اس نوعیت کی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
البانیزے اور کئی عالمی انسانی حقوق تنظیمیں ان پابندیوں کو ’سیاسی دباؤ‘ اور ’یو این ماہرین کی آزادی پر حملہ‘ قرار دیتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقتصادی پابندیوں اقوام متحدہ اکاؤنٹ انسانی حقوق انشورنس غیرقانونی فرانچیسکا البانیزے کریڈٹ کارڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقتصادی پابندیوں اقوام متحدہ اکاؤنٹ فرانچیسکا البانیزے کریڈٹ کارڈ فرانچیسکا البانیزے اقوام متحدہ متحدہ کی کر دیا
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔