اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے انسانی حقوق فرانچیسکا البانیزے نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی صورتِ حال پر ان کی رپورٹس کے تناظر میں عائد امریکی پابندیوں نے عملاً انہیں ’عالمی مالیاتی نظام سے بے دخل‘ کر دیا ہے۔

دوحہ فورم میں شریک فرانچیسکا البانیزے نے الجزیرہ کو بتایا کہ یکطرفہ طور پر عائد کردہ ’غیرقانونی‘ امریکی پابندیاں ان کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو مٹانے کے لیے نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ

البانیزے نے بتایا کہ انہیں دنیا بھر سے دھمکیاں مل رہی ہیں، اور ان پر عائد امریکی پابندیوں نے ان کی بنیادی معاشی سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔

ان کے مطابق یکطرفہ جبری اقدامات نے انہیں ایک ایسی ’شخصیتِ غیر‘ بنا دیا ہے جو عالمی معاشی نظام میں اپنا وجود نہیں رکھ سکتی۔

’میں کریڈٹ کارڈ نہیں رکھ سکتی؛ مجھے دوسروں سے پیسے یا کارڈ ادھار لینے پڑتے ہیں، جبکہ کئی ممالک دوسرے کے نام کا کارڈ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔‘

پابندیوں کے عملی اثرات

اقوام متحدہ کی نمائندہ البانیزے کے مطابق پابندیوں کے باعث ان کا امریکی میڈیکل انشورنس بھی ادائیگی سے انکار کر چکا ہے۔

اسی طرح یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے ان کے نام سے بک کرایا گیا ہوٹل کمرا بھی منسوخ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب اقدامات اس بات کی مثال ہیں کہ امریکا، اسرائیل اور دیگر ممالک انسانی حقوق کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتے ہیں۔

’ہم کمزور تب ہوتے ہیں جب اکیلے ہوں‘

فرانچیسکا البانیزے کا کہنا تھا کہ ان کوششوں کے باوجود وہ نہ تو خاموش ہوں گی اور نہ ہی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹیں گی۔

’یہ ضروری ہے کہ لوگ سمجھیں کہ ہم صرف اس وقت کمزور ہوتے ہیں جب ہمیں تنہا کر دیا جائے۔‘

فرانچیسکا البانیزے اقوام متحدہ کی وہ ماہرہیں جنہوں نے غزہ میں جاری انسانی بحران، اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فلسطینی شہریوں کی صورتحال پر کئی تند و تیز رپورٹس شائع کیں۔

مزید پڑھیں: امریکا، برطانیہ، جرمنی اور مسلم ممالک پر غزہ کی نسل کشی میں شراکت داری کا الزام

مذکورہ رپورٹس میں انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو ممکنہ ’نسلی صفائی‘ اور ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے تناظرمیں دیکھا تھا۔

ان کے بیانات اور رپورٹس کے بعد امریکی حکومت نے انہیں پابندیوں کا نشانہ بنایا، جن کے تحت وہ امریکی مالیاتی نظام میں کسی اکاؤنٹ، کریڈٹ، سفری یا انشورنس سہولت تک رسائی نہیں رکھ سکتیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایک موجودہ اقوامِ متحدہ کے نمائندہ کو اس نوعیت کی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

البانیزے اور کئی عالمی انسانی حقوق تنظیمیں ان پابندیوں کو ’سیاسی دباؤ‘ اور ’یو این ماہرین کی آزادی پر حملہ‘ قرار دیتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقتصادی پابندیوں اقوام متحدہ اکاؤنٹ انسانی حقوق انشورنس غیرقانونی فرانچیسکا البانیزے کریڈٹ کارڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقتصادی پابندیوں اقوام متحدہ اکاؤنٹ فرانچیسکا البانیزے کریڈٹ کارڈ فرانچیسکا البانیزے اقوام متحدہ متحدہ کی کر دیا

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم