Express News:
2026-06-03@00:00:42 GMT

بدلتی ہوئی عرب دنیا، مسلم ممالک

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ یہ دینی اداروں اور مدارس کے دنیا کے سب سے بڑے نیٹ ورک کا گھر ہے۔ اس کے باوجود اس نے ریاست اور معاشرے کی اصلاح کے بارے میں مسلم معاشروں میں بڑھتی ہوئی بحث میں نسبتاً چھوٹا کردار ادا کیا ہے۔

اب مسلم ریاستوں بالخصوص خلیجی عرب ممالک میں سیاسی اور بنیادی تبدیلی کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مسلم ریاستوں اور معاشروں کو اس وقت جیو اسٹرٹیجک اور جیو پولیٹیکل توازن، جمہوری اصلاحات اور سماجی، سیاسی اور نظریاتی تبدیلی کے راستے پر بہت سے چیلنجزکا سامنا ہے۔ دوسری طرف یہ اقدامات ریاستوں کو تیزی سے اصلاحات کی طرف لے جا رہے ہیں۔

عالمی سطح پر ان ریاستوں بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا سافٹ امیج تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جس کا آغاز آج سے پانچ سال قبل 13 اگست 2020 کو ہوا تھا، اسرائیل، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور امریکا نے سہ فریقی معاہدے کا اعلان کیا تھا، جسے’’ ابراہیم ایکارڈز‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس کے بعد 15 ستمبر 2020 کو بحرین اور اسرائیل کے درمیان ایک اور معاہدہ ہوا۔ بحرین، متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ، اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حتمی معاہدے پر دستخط کیے جس سے اسرائیل اور دونوں خلیجی ریاستوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

پاکستان 40,000 مدارس، 500 سرکاری اور نجی مذہبی اداروں، مذہبی گروہوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے ایک وسیع نیٹ ورک والا ملک ہونے کے باوجود ایسے ذہن پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے جو مسلم معاشروں میں موجودہ بحثوں میں حصہ لے سکیں۔

ایک پختہ یقین ہے کہ مذہبی اداروں میں استعمال ہونے والے طریقے، ان کے تنظیمی ڈھانچے اور سخت سوچ کی وجہ سے جدیدیت کے عمل میں رکاوٹ ہیں۔

تاہم، یہ ایک بہت گہرا مسئلہ ہے جس کے لیے ریاست اور معاشرے میں اس حوالے سے گہرائی سے تحقیق کی ضرورت ہے کہ مسلم دنیا میں کیا ہو رہا ہے، علمی اور نظریاتی بحثیں کس طرح ریاست اور معاشرے کو تبدیل کر رہی ہیں۔

سعودی عرب اسلام کی جائے پیدائش ہے اور مسلم ممالک اور جہادی تنظیموں کا بڑا معاشی حامی رہا ہے، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حتمی فیصلے جاری کرنے کے اختیار کے ساتھ خود کو ولی العمر، یا ریاست کا سرپرست یا محافظ قرار دیا ہے۔

کچھ مغربی مبصرین نے ان کے جرات مندانہ اقدامات کے لیے انھیں مصطفیٰ کمال پاشا اتا ترک سے تشبیہ دی ہے، لیکن اب تک پاکستان ایسے ذہنوں کو تلاش کرنے میں ناکام رہا ہے جو مسلم معاشروں میں موجودہ بحث میں حصہ لے سکیں۔

تب سے انڈونیشیا اسلامی فقہ پر جاری بحث میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ نہد العلماء ، دنیا کی سب سے بڑی سول سوسائٹی کی تحریک، خلافت کے تصورکو ختم کرنے اور اس کی جگہ ایک قومی ریاست کے تصورکی وکالت کرتی رہی ہے۔

اس نے اسلامی فقہ سے کافرکے تصور کو ختم کرنے اور اسے شہریت کے تصور سے تبدیل کرنے کا فتویٰ یا حکم بھی جاری کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ نہد العلماء نے سخت گیر ہندو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے بھی بات چیت شروع کر دی ہے جس میں ہندوستانی مسلم تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

تیونس میں اسلام پسند جماعت ’’ انھادہ‘‘ کو اکثر پوسٹ اسلامسٹ تحریک کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس نے سیاسی سوچ میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ پارٹی خاص طور پر خواتین کے حقوق سمیت انفرادی آزادیوں کی حامی ہے۔

اس نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کرے گا جو کسی خاص مذہبی طرز زندگی کو مسلط کرتے ہیں۔ اس کے رہنما، غنوچی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’ لوگوں کو زیادہ مذہبی بنانے کی کوشش کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ یہ مسلم معاشروں میں جاری مباحث کی چند مثالیں ہیں۔

جو مذہبی سوچ کو بدل رہے ہیں۔ یہ بحثیں مذہب کی ’’سیکولرائزیشن‘‘ کی طرف لے جا سکتی ہیں، لیکن اس عمل کو مغربی اثرات سے اسلامی فکر کو پاک کرنے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو اٹھارویں صدی میں شروع ہوا اور اس نے سیاسی اسلام کی تحریکوں کو جنم دیا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ مسلم معاشرے جنھوں نے اپنے نظریات کی اصلاح پر بحث شروع کی تھی وہ زیادہ مذہبی ہوتے جا رہے ہیں لیکن سیاسی نظریات کے بوجھ سے خود کو آزاد کر رہے ہیں۔ وہ اب بھی ریاست کو ایک مذہب کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

جیسا کہ یہاں پیش کی گئی مثالیں ظاہرکرتی ہیں، عرب ممالک نے خاص طور پر ریاست، سول سوسائٹی اور سیاسی تحریک کے بارے میں بحث شروع کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی بحث شروع کرنا اب بھی مشکل ہے۔

آئینی طور پر پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق اس کے زیادہ تر قوانین اسلامی قوانین کے مطابق ہیں۔ مذہبی جماعتیں اب بھی ملک میں شرعی قانون کے نفاذ کا مطالبہ کرتی ہیں۔

ملک کی سیاسی معیشت ان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ان کی بنیاد ’’خلافت‘‘ ریاست کا تصور ہے۔ ایسی بہت سی جماعتیں ایک مسلم معاشرے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں جو مکمل یا جزوی طور پر ایک قومی ریاست کے ماڈل پر چل رہی ہو۔

کیا پاکستانی علماء آر ایس ایس کے ساتھ بات چیت کر سکتے ہیں تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ہندو مت کے اندر بدلتی تقسیم کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکے؟ پاکستانی اور ہندوستانی مسلم اسکالرزکے درمیان ان کے مشترکہ راستوں اور الہام کے ذرایع کے باوجود بہت کم تعامل ہے۔

رفتہ رفتہ دونوں ممالک کے مذہبی ادارے اپنی اپنی سیاسی مجبوریوں اور ریاستی دباؤ کے تحت ایک دوسرے سے ہٹ گئے ہیں۔ تنگ نظریات نے پاکستان میں مذہبی قوم پرستی کو جنم دیا۔

مسلم دنیا میں تبدیلیاں صرف مذہبی اداروں میں ہونے والی تبدیلیوں اور اندرونی سماجی تبدیلیوں تک محدود نہیں ہیں۔ اب ان کی عکاسی ریاستوں کی خارجہ پالیسیوں میں ہوتی ہے، مثال کے طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام۔

اسے ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ اب یہ ممالک اصلاحات کی راہ پرگامزن ہیں، اپنی عالمی مصروفیت کے آپشنزکو لچکدار بنا رہے ہیں، جو ممالک لچکدار نہیں ہیں وہ نہ صرف مشکلات کا شکار ہیں بلکہ اب وہ غیر متعلقہ ہوتے جا رہے ہیں۔

خلیجی ریاستوں میں بیک وقت سیاست، معاشرت اور دیگر امور میں اصلاحات ہو رہی ہیں۔ آئیڈیالوجی اور راسخ العقیدہ ہمیشہ ابتدا میں ایسی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں لیکن آخر کار یہ اصلاحات ناگزیر ہو جاتی ہیں۔

[email protected]

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جا رہے ہیں کے درمیان کے طور پر کے تصور کے لیے اور اس رہا ہے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد