احتجاج کیس، علیمہ کے چوتھی مرتبہ وارنٹ جاری، مچلکے، گاڑیوں کے ضمانتی بانڈ ضبط
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
راولپنڈی (جنرل رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تحریک انصاف کے 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ صادق آباد کے مقدمہ میں سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم کی مسلسل عدم حاضری پر ان کے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے اور مقدمے میں شامل 4 گاڑیوں کے 85 لاکھ روپے مالیت کے شورٹی بانڈز بھی بحق سرکار ضبط کر نے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ملزمہ کو دو نئے شورٹی بانڈز اور 10 لاکھ روپے فی کس کے دو نئے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے ملزمہ کے ضامن عمر شریف کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 اکتوبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت نے ملزمہ کی گرفتاری و حاضری پر ایس پی راول ڈویژن اور ڈی ایس پی وارث خان نعیم کو بھی توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے چوتھی مرتبہ علیمہ خانم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے ہیں۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر 3 مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود علیمہ خانم عدالت پیش نہیں ہوئیں جبکہ مقدمے میں دیگر 10 ملزم عدالت میں موجود تھے۔ عدالت نے پولیس کی رپورٹ کو بوگس قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر ملزمہ روپوش ہے تو اڈیالہ جیل کے باہر ان کی میڈیا سے گفتگو کیسے نشر ہوتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس نے عدالت کو دھوکہ دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عدالت نے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت