پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار کے خلاف این سی سی آئی اے اسلام آباد نے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرایا۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ملزمہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابق ٹوئٹر) پر ریاست مخالف مواد پھیلایا اور متعدد جعلی اور گمراہ کن ٹویٹس و ویڈیوز شیئر کیں جس میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات شامل تھے۔
مقدمہ متن میں لکھا گیا ہے کہ ملزمہ کے ٹویٹس سے نسلی اور لسانی نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی جبکہ شاندانہ گلزار نے وزیراعظم پاکستان سے متعلق جعلی تصویر اور غلط معلومات پھیلائیں۔
ایف آئی آر کے مطابق شاندانہ گلزار نے جھوٹی خبر میں اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ ملاقات کا الزام لگایا گیا، جس سے عوام میں خوف، بے چینی اور ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا ہوئی۔
این سی سی آئی اے نے مقدمے میں لکھا کہ تحقیقات میں ثابت ہوا کہ ملزمہ نے دانستہ طور پر فیک نیوز کے ذریعے ریاست مخالف بیانیہ آگے بڑھایا، ملزمہ کے خلاف سیکشن 11، 20 اور 26-اے آف پی ای سی اے 2016 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
شاندانہ گلزار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد این سی سی آئی اے نے ریاست مخالف مہم کے پیچھے چھپے دیگر عناصر اور معاونین کی تلاش کے لیے مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاندانہ گلزار کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔