کراچی، سندھ کلچر ڈے، شاہراہ فیصل پر ہنگامہ آرائی کرنے والے ریلی کے شرکاء کے خلاف مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں سندھ کلچر ڈے کے موقع پر شاہراہ فیصل ایف ٹی سی کے قریب ریلی کے شرکاء کی جانب سے ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ ، سرکاری و غیر سرکاری املاک اور ریڈ بس ریسکیو کی ایمبولینس اور صدر تھانے کی موبائل کو شدید نقصان پہنچانے کے خلاف صدر پولیس نے 12 افراد کو گرفتار کر کے سرکار مدعیت میں انسداد دہشت گردی ، کار سرکار میں مداخلت ، اقدام قتل سمیت دیگر سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
صدر تھانے میں درج کیے جانے والے مقدمہ الزام نمبر 536/2025 صدر تھانے میں تعینات اسنپکٹر عبدالمجید ابڑو کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آڑ کے متن کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے کے قریب ایک ریلی ائیر پورٹ سے صدر جانے والی روڈ پر آئی جس کے شرکاء مختلف موٹرسائیکلوں پر سوار تھے، حکومت سندھ کی جانب سے ریلی پر پابندی ہے اور دفعہ 144 نافذ ہے۔
جس کے باعث ریلی کی شرکاء کو پولیس افسران و اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی ، تو ریلی کے شرکاء نے ایف ٹی سی پہنچ کر شاہراہ فیصل کے دنوں اطرا ف کی سڑکیں بند کردیں اور پولیس پر پتھراؤ اور اسلحہ سے فائرنگ کردی جبکہ مسافروں کی گاڑیوں کو نقصان بھی پہنچایا۔
شرکاء نے سرکاری و غیر سرکاری املام ، ریسکیو کی ایمبولینس ، ریڈ بس اور صدر تھانے کی سرکاری موبائل کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ریلی کے شرکاء ملک دشمن نعرے بازی بھی کررہے تھے ۔ اور پولیس پر حملہ بھی کیا ۔
پولیس نے شیلنگ کی اور سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے روکا ، ریلی کے شرکاء کی تعداد 300 سے 400 کے قریب تھی ۔
جن میں 12 افراد شہروز ، سلمان ، شاون علی ، ارشاد ، زبیر احمد ، علی محمد ، عبیداللہ ، ذوالفقار ، ساجد حسین ، اویس اور اطہر علی کو گرفتار کیا ۔
صدر پولیس نے گرفتار ملزمان کے دیگر ساتھیوں صورت نامعلوم 300سے 400 افراد کے خلا ف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے تفتیش کا عمل جاری ہے جبکہ فرار ہونے والے افراد کی تلاش کا عمل شروع کردیا گیا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریلی کے شرکاء صدر تھانے
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔