فوجی مخالف بیانات، پی ٹی آئی رہنما نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے فوج مخالف بیانات پر پارٹی میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
آزادکشمیر کے ضلع بھمبر کی تحصیل سماہنی سے پی ٹی آئی کے صدر میجر (ر) طارق محمود نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے علیحدگی کا اعلان کیا۔
میجر (ر) طارق محمود نے کہاکہ وہ ایسی پارٹی کا حصہ نہیں رہ سکتے جو پاک فوج کے خلاف عزائم رکھتی ہو۔
انہوں نے واضح کیاکہ پاک فوج کے خلاف جاری بیانات کے خلاف احتجاج کے طور پر وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وطن اور پاک فوج ان کی اولین ترجیح ہیں اور وہ ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کو ذہنی مریض قرار دیا اور کہاکہ پاکستان سب سے پہلے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پارٹی چھوڑ دی پی ٹی آئی رہنما فوج مخالف بیانات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پارٹی چھوڑ دی پی ٹی ا ئی رہنما فوج مخالف بیانات وی نیوز پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔