Express News:
2026-07-24@00:58:05 GMT

اسرائیل جنگ ہارگیا ہے

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

غزہ پر حالیہ جارحیت جو مسلسل دو سال جاری رہی اور اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی گئی اور بڑے پیمانے پر غزہ کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا، ان سب حالات میں آخر کار 9 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا۔ 

لیکن اس پورے عرصے میں ایک ایسا طبقہ بھی منظر عام پر آیا کہ جس نے مسلسل بیانیہ کی جنگ میں فلسطین اور اس کی عوام اور مزاحمت کو ایک طرف قصور وار ٹہرانے کی کوشش کی تو دوسری جانب اسرائیلی ظلم کی پردہ پوشی کرتے ہوئے غزہ کو شکست خوردہ دکھانے کی ناکام کوشش کی اور پروپیگنڈا کیا کہ سب کچھ تباہ ہوگیا، ہزاروں لوگ مارے گئے۔

حقیقت میں تو قتل عام ہوا، نسل کشی ہوئی لیکن اس مخصوص ٹولے نے اس نسل کشی کی مذمت نہیں کی بلکہ اس نقصان کو بڑھا چڑھا کر فلسطینیوں کے حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی۔ بہرحال اب جنگ بندی ہوچکی ہے اور نہ جانے غاصب اسرائیل اس معاہدے پر کتنے دن تک عمل کرے گا، لیکن اس تمام تر صورتحال میں ایک بات ہے کہ اب دنیا جاننا چاہتی ہے کہ آخر نقصان کس کا ہوا ہے ؟ جنگ کون جیت گیا اورکون ہارگیا؟

 اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہو تو دونوں فریقوں کے نقصان کا موازنہ کیا جائے گا۔ یعنی پہلے غزہ کی بات کرتے ہیں کہ غزہ مکمل تباہ ہوا ہے، لاکھوں لوگ بے گھر ہیں، لاکھوں ہی زخمی ہیں، انفرا اسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے، زندگی نام کی کوئی چیز غزہ میں باقی نہیں رہی ہے۔

حماس اور جہاد اسلامی کی قیادت شہید ہوئی ہے، یعنی جسمانی اور دیگر ہر عنوان سے نقصان تو ہوا ہے لیکن غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ستر سال سے زائد قبضے میں یہ نقصان اس آزادی کے ہدف کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے، جس کی خاطر فلسطینیوں نے قربانیاں دی ہیں۔

اب اگر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے نقصان کی بات کی جائے تو غزہ کے مقابلے میں اسرائیل کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ مختلف ذرایع ابلاغ پر نشر ہونے والی خبروں اور تجزیوں میں پیش کی جانے والی باتوں کو اکٹھا کر کے اگر بیان کیا جائے تو غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کو مندرجہ ذیل نقصان اٹھانا پڑا ہے جو اب تک 77سالوں کی تاریخ میں اسرائیل کے لیے ایک گہرا ترین زخم ہے جو آیندہ کئی سالوں تک بھر نہیں پائے گا۔ نقصانات کے دعوؤں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

 1۔ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو فوجی جانی نقصان تقریبا دو ہزار کے قریب فوجی ہلاکتیں اور پچیس ہزار فوجیوں کے زخمی اور معذور ہونے کی اطلاعات اب تک مختلف ذرایع ابلاغ پر نشر ہو چکی ہیں، اگر کسی بھی ریاست کی افواج کو بڑے پیمانے پر ہلاکت یا معذوری کا سامنا ہو تو اس کا فوری اثر لڑائی کی گنجائش، جوان بااثرکمانڈرزکی کمی اور مورال پر پڑتا ہے۔ اس کے بعد دفاعی آپریشنز میں تبدیلیاں، فوجی پالیسیاں اور ممکنہ طور پر معاہدات یا جنگی حکمتِ عملی کا ازسرِنو جائزہ دیکھنے میں آتا ہے۔

2۔ اسی طرح اگر مالی نقصان کی بات کی جائے تو تقریبا 150ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔

3۔گزشتہ مہینوں رپورٹ ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایلات کی بندر گاہ مکمل بند ہو چکی ہے۔

4۔سات اکتوبر سے قبل اسرائیل کے ساتھ عرب حکومتوں کی نارمالائزیشن کا معاملہ بھی اس جنگ کے دوران خسارہ میں چلا گیا ہے اور اب یہ مدعا شاید کئی سالوں تک دوبارہ قوت نہیں پکڑے گا، یعنی اسرائیل کو علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات میں خسارہ اٹھانا پڑا ہے۔

5۔ جہاں تک اسرائیل کے اپنے داخلی استحکام کی بات ہے تو اسرائیل کا داخلی استحکام اور عوامی اعتماد مکمل طور پر بشمول سیاسی قیادت، فوجی قیادت اور میڈیا کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

6۔ انفرا اسٹرکچر اورگھریلو نقصان بھی رپورٹ ہوا ہے جب کہ ہزاروں صیہونی آبادکاروں نے مقبوضہ فلسطین کو اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ یہ جگہ اب ان کے لیے محفوظ مقام نہیں رہی۔

7۔ بین الاقوامی برادری کا ردعمل بھی اسرائیل کے حق میں نہیں گیا اور اس کی وجہ سے پوری دنیا میں اسرائیل کو شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

اگر اسرائیل کے مزید نقصانات کا جائزہ لیا جائے تو خلاصہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں فوجیوں کو کھو دیا (ہلاک یا زخمی اور معذورہوئے)۔ اسرائیل نے 150 بلین ڈالرکا نقصان اٹھایا۔ اسرائیل نے عرب دنیا کے ساتھ نارملائزیشن کھو دی۔

اسرائیل نے فلسطینی مسئلے کو ختم کرنے کی اپنی کوشش کھو دی اور ناکام ہوا۔ اسرائیل نے اپنی بین الاقوامی شہرت کھو دی۔ اسرائیل نے اپنے غیر ملکی اور تجارتی تعلقات کھو دیے۔ اسرائیل نے سیکڑوں زرہ پوش گاڑیاں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود کھودیا۔

اسرائیل نے یہودیوں کا نیتن یاہو کی حکومت پر اعتماد کھو دیا۔ اسرائیل نے غزہ پر قابو پانے کا اپنا منصوبہ کھو دیا۔ اسرائیل نے دنیا کے لوگوں کے سامنے اپنا وقارکھو دیا۔ اسرائیل نے مغربی عوامی رائے کی حمایت کھو دی۔ اسرائیل نے اپنی داخلی سیکیورٹی اور استحکام کھو دیا۔

اسرائیل نے اپنی داخلی محاذ کی یکجہتی اور اتحاد کھو دیا۔ اسرائیل نے اپنے جرنیلوں اور اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو کھو دیا۔ اسرائیل نے اپنا ناقابل تسخیر فوج ہونے کا بھرم کھو دیا۔ اسرائیل نے وہ ٹیکنالوجی کھو دی جس پر وہ فخر کرتا تھا۔

اسرائیل نے خطے میں اپنی خوفزدہ کرنے کی صلاحیت کھو دی۔ اسرائیل نے کچھ عرب ممالک کے ساتھ اپنے خفیہ اتحاد کھو دیے۔ اسرائیل نے خطے میں اپنا سیاسی مستقبل کھو دیا۔ اسرائیل نے غزہ کی استقامت کے سامنے اپنا تحمل کھو دیا۔

اسرائیل نے اپنی میڈیا کی اپنے عوام اور دنیا کے سامنے ساکھ کھو دی۔ نتیجہ یہ ہے کہ اسرائیل اس جنگ میں بری طرح شکست سے دوچار رہا ہے اور غزہ آج بھی استقامت کے باعث جنگ کے میدان کے بعد بیانیہ کے میدان میں کامیاب ہوا اور اب مذاکرات کی میز پر بھی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل نے اپنی غاصب صیہونی اسرائیل کے اسرائیل کو کے سامنے جائے تو کھو دیا کھو دی ہوا ہے کی بات اور اس

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم