اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسرائیل نے ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر فضائی حملہ کیا، جس میں 9 افراد شہید ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ غزہ کے علاقے الزیتون میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی جنگی طیارے نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے فوراً بعد گاڑی میں موجود تمام افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کردی، غزہ میں امدادی سامان کے داخلے کا مطالبہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جس کے باعث خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ حملہ واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ صیہونی افواج جان بوجھ کر نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
حماس کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائی مصر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے غزہ میں امداد پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، اسرائیلی حملوں میں مزید 9 فلسطینی شہید
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس فضائی حملے کو انسانیت سوز جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر امن اور انسانی اصولوں کی سنگین پامالی کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیل غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل معاہدے کی خلاف ورزی وی نیوز جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی نے ایک
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔