حماس نے ایک اور اسرائیلی قیدی کی لاش ریڈ کراس کے حوالے کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
حماس کے ترجمان نے وضاحت کی کہ بیشتر لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے بھاری مشینری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاشیں نکالنے کے عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشیں برآمد کرنا ایک مشکل اور وقت طلب عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ امن معاہدے کے تحت ایک اور اسرائیلی مغوی کی لاش ریڈ کراس کے حوالے کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ریڈ کراس سے لاش وصول کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 28 میں سے صرف 9 مغویوں کی لاشیں مل سکی ہیں۔ حماس کے ترجمان نے وضاحت کی کہ بیشتر لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے بھاری مشینری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاشیں نکالنے کے عمل میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، کیونکہ غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشیں برآمد کرنا ایک مشکل اور وقت طلب عمل ہے۔ گذشتہ روز حماس نے اسرائیلی پابندیوں کو تباہ شدہ سرنگوں میں دفن قیدیوں کی لاشیں نکالنے میں بڑی رکاوٹ قرار دیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری شدید بمباری اور ناکہ بندی کے باعث لاشوں کی بازیابی کے کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے حماس پر الزام لگایا ہے کہ وہ لاشوں کے مقامات سے آگاہ ہونے کے باوجود جان بوجھ کر ان کی حوالگی میں تاخیر کر رہا ہے۔ اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حماس کے پاس بیشتر لاشوں کی معلومات موجود ہیں، لیکن وہ انہیں حوالے کرنے میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ امن معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان قیدیوں اور لاشوں کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔ حماس نے زور دیا ہے کہ وہ معاہدے کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن غزہ میں موجودہ حالات کے باعث بعض عملی مشکلات درپیش ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نکالنے کے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔