بلغاریہ: بجٹ اور بدعنوانی کے خلاف پرتشدد مظاہرے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صوفیہ (انٹرنیشنل ڈیسک) بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ سمیت کئی شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ شہریوں نے حکومت کے مجوزہ بجٹ 2026 ء منصوبے اور یورو کے نفاذ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔مظاہرے کے دوران کئی مقامات پر مشتعل افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، مظاہرین نے حکومت سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ صوفیہ میں مظاہرین نے حکمران جماعتوں کے دفاتر کو گھیرے میں لیا جبکہ پولیس پر پتھروں، بوتلوں اور آتش گیر مواد سے حملے کیے گئے۔ یہ پہلا بجٹ ہے جو یورو کرنسی میں تیار کیا گیا، کیونکہ یورپی یونین کا رکن ملک بلغاریہ یکم جنوری کو یورو اپنانے جا رہا ہے۔بلغاریہ کی پارلیمانی کمیٹی نے بجٹ کی ابتدائی منظوری گزشتہ ماہ دے دی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔