پاک فضائیہ کے آپریشن میں 3 افغان کرکٹرز سمیت 8 ہلاک، کابل نے سہ ملکی سیریز سے دستبرداری کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا میں پاکستان کی مبینہ فضائی کارروائی کے نتیجے میں 3 افغان کرکٹرز سمیت کم از کم 8 افراد ہلاک ہو گئے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کے مطابق ہلاک ہونے والے کھلاڑیوں کی شناخت کبیر، صبغت اللہ اور ہارون کے نام سے ہوئی ہے۔
اے سی بی کا الزام اور مذمتی بیان
انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے بیان میں کہا کہ یہ کھلاڑی ارگون سے شرنہ گئے تھے جہاں وہ ایک دوستانہ میچ میں حصہ لے رہے تھے۔ واپسی کے بعد ارگون میں ایک اجتماع کے دوران وہ پاکستان کے فضائی حملے کا شکار ہوگئے۔
Statement of Condolence
The Afghanistan Cricket Board expresses its deepest sorrow and grief over the tragic martyrdom of the brave cricketers from Urgun District in Paktika Province, who were targeted this evening in a cowardly attack carried out by the Pakistani regime.
In… pic.twitter.com/YkenImtuVR
— Afghanistan Cricket Board (@ACBofficials) October 17, 2025
سہ ملکی سیریز سے دستبرداری
واقعے کے بعد افغانستان نے پاکستان اور سری لنکا کے ساتھ اگلے ماہ شیڈول سہ ملکی سیریز سے بطور احتجاج دستبرداری کا اعلان کیا ہے
افغان کھلاڑیوں کا ردعمل
افغانستان کی ٹی 20 ٹیم کے کپتان راشد خان نے کہا کہ یہ سانحہ اُن نوجوان کھلاڑیوں کی جانیں لے گیا جو ایک دن اپنے ملک کی نمائندگی کے خواب دیکھ رہے تھے۔
پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ
افغان میڈیا کے مطابق پاکستان نے جمعہ کے روز پکتیکا کے ارگون اور برمل اضلاع میں فضائی کارروائیاں کیں، جن میں شہری جانی نقصان ہوا۔
کابل حکومت نے الزام لگایا ہے کہ یہ حملے دونوں ملکوں کے درمیان موجود نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب دونوں ممالک کے درمیان 48 گھنٹے کی جنگ بندی نافذ تھی۔ پاکستانی حکام نے دوحہ میں جاری مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی تھی، جس پر افغان حکومت نے بظاہر اتفاق کیا ہے۔ دو طرفہ مذاکرات ہفتہ کے روز شروع ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔