امریکہ۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کے پس منظر میں، ریاض کا چاہتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اپنی ایک رپورٹ میں نیوز ویک کا کہنا تھا کہ ریاض کے ساتھ دوحہ کی طرز کا معاہدہ، امریکہ کی علاقائی پالیسی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ جو برسوں کی کشیدگی کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان روایتی سلامتی کے تعلقات کو بحال کریگا۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب ایک جامع دفاعی معاہدے پر امریکہ کی ٹرامپ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ جس کی رو سے ریاض پر ہونے والا کوئی بھی حملہ امریکی سلامتی کے لئے خطرہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ، گزشتہ مہینے امریکہ اور قطر کے درمیان ہونے والے معاہدے کی طرز پر ہے۔ جو امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سیکورٹی و فوجی تعاون کو گہرا کرے گا۔ نیز مشرق وسطیٰ کے استحکام اور دنیا میں امریکہ کی اسٹریٹجک پوزیشن پر دور رس اثرات بھی مرتب کرے گا۔
یہ معاہدہ کیوں اہم ہے؟ تجویز کردہ معاہد، محمد بن سلمان کی طویل المدت امریکی حمایت و حفاظت برقرار رکھنے کی کوششوں کا آئینہ دار ہے۔ سعودی عرب کی سیاسی و عسکری فیصلہ سازی انہی کے کندھوں پر ہے۔ انہوں نے ہی امریکہ کے ساتھ باضابطہ سیکورٹی معاہدے کو ریاض کے لئے کلیدی ترجیح بنایا۔ اس بارے میں نیوز ویک نے فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے لئے یہ معاہدہ، توانائی، سرمایہ کاری اور سلامتی کے شعبوں میں شراکت داری کے ذریعے، خطے میں چین اور روس کے بڑھتے ہوئے کردار کے مقابلے میں امریکی اثر و رسوخ کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ معاہدہ عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کی کوششوں پر بھی اثر انداز ہوگا، جس میں ابراہیم اکارڈ کے ذریعے سعودی عرب کی شراکت بھی شامل ہے۔ ڈونلڈ ٹرامپ نے حال ہی میں اس امید کا اظہار کیا کہ دنیا جلد ہی ابراہیم معاہدے میں توسیع کا مشاہدہ کرے گی۔ انہوں نے اس بابت سعودی عرب کو اس عمل میں ایک اہم ملک قرار دیا۔ دوسری جانب ریاض امید کر رہا ہے کہ اگلے مہینے سعودی ولی عہد کے دورہ وائٹ ہاؤس کے دوران، دونوں ممالک کے درمیان مذکورہ سیکورٹی معاہدہ حتمی شکل میں آ جائے گا۔
مذاکرات سے واقف افراد توقع کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی اور نام نہاد دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مضبوط کرے گا۔ اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فنانشل ٹائمز کو ایک امریکی حکومتی اہلکار نے اس امر کی تصدیق کی کہ سعودی ولی عہد کے دورہ امریکہ کے دوران ایک معاہدے پر دستخط کرنے کے بارے میں بات چیت جاری ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ حالانکہ امریکی خارجہ پالیسی کے ادارے نے ہمیشہ واشنگٹن و ریاض کے درمیان دفاعی تعاون کو اپنی علاقائی حکمت عملی کی مضبوط بنیاد قرار دیا۔ واشنگٹن نے اعلان کیا کہ وہ اختلافات کو دور کرنے، علاقائی یکجہتی میں مدد کرنے اور دہشت گردوں کے لئے محفوظ پناہ گاہوں کے قیام کو روکنے کے لئے سعودی عرب کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔ حالیہ ممکنہ اسٹریٹجک معاہدے کے بارے میں نیوز ویک کی رپورٹ پر، واشنگٹن میں سعودی سفارت خانے نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔
قطر معاہدہ
گزشتہ مہینے، امریکہ اور قطر نے ایک دفاعی معاہدے کے ذریعے عہد باندھا کہ قطر پر کسی بھی قسم کے حملے کو امریکی امن و سلامتی کے لئے خطرہ سمجھا جائے گا۔ یہ معاہدہ دوحہ میں حماس کے سیاسی رہنماؤں پر حملے کے چند دن بعد ہوا، جس نے خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کے خدشات کو بڑھا دیا۔ نیوز ویک نے لکھا کہ ریاض کے ساتھ دوحہ کی طرز کا معاہدہ، امریکہ کی علاقائی پالیسی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ جو برسوں کی کشیدگی کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان روایتی سلامتی کے تعلقات کو بحال کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ 2020ء میں اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لئے امریکی ثالثی کے فریم ورک کے طور پر، ابراہیم معاہدوں کے امکانات کو بھی زندہ کرے گا۔
ناکام سعودی کوششیں
قبل ازیں سعودی عرب، سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کی کوشش کر چکا ہے، لیکن یہ کوششیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر منحصر تھیں۔ جو حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد ناکام ہو گئیں۔ خاص طور پر غزہ کی جنگ کے بعد، سعودی عرب نے اسرائیل پر نسل کشی کا الزام لگایا اور تل ابیب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کر دیا۔ البتہ صیہونی وزیراعظم نتین یاہو نے اس شرط کی مخالفت کی۔
آئندہ کیا ہوگا؟
رپورٹ کے مطابق توقع ہے کہ محمد بن سلمان کے امریکہ پہنچنے سے پہلے، مذاکرات میں تیزی آئے گی۔ دونوں ممالک کے عہدیدار ایسے رسمی معاہدے پر پہنچنا چاہتے ہیں جو خلیج فارس میں امریکی فوجی عہدوں کو مضبوط کرے اور خطے کی سلامتی کے حتمی ضامن کے طور پر واشنگٹن کے کردار کی توثیق کرے۔ سعودی عرب کے لئے یہ معاہدہ امریکہ کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت کو مضبوط کرے گا اور اس کے عالمی مقام کو بلند کرے گا۔ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرامپ کی نئی پالیسی کی بنیاد ہوگا۔ ایسی پالیسی جو آئندہ سال خطے میں اتحاد کی نئی تعریف پیش کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تعلقات کی بحالی سعودی عرب کے امریکہ اور کے درمیان سلامتی کے یہ معاہدہ امریکہ کی کو مضبوط ممالک کے نیوز ویک کے ساتھ ریاض کے کرے گا کے بعد کے لئے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔