علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ برقرار، شناختی کارڈ، پاسپورٹ ضبط اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کے مسلسل عدم پیشی پر سخت کارروائی کرتے ہوئے اُن کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کے ساتھ بینک اکاؤنٹس بھی فریز کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
عدالت نے نادرا اور امیگریشن حکام کو اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کی ہدایت کی، جبکہ علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان ہر جگہ نظر آتی ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں ہوتیں۔ جج امجد علی شاہ نے واضح کیا کہ بارہا مواقع دیے گئے مگر ملزمہ پیش نہ ہوئیں، جس پر چوتھی مرتبہ اُن کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
بعد ازاں کیس کی مزید سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
یہ کارروائی 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران ہوئی، جس میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان نامزد ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز اس مقدمے میں تفتیشی افسر نے عدالت کو پیش رفت رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں بتایا گیا کہ علیمہ خان کے ممکنہ ٹھکانوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور اُن کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائی تیز کر دی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: علیمہ خان کے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔