قومی شناختی کارڈ پر پتا تبدیل کرانے کے لیے نئی ہدایات جاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے قومی شناختی کارڈ پر موجودہ پتا تبدیل کرانے کے خواہشمند شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری کر دیں۔
مزید پڑھیں: نادرا کے تعاون سے پاک آئی ڈی ایپ پر فنگر پرنٹس کی تصدیق کا نیا نظام متعارف
ترجمان نادرا کے مطابق ادارے نے پتا کی تبدیلی کا طریقہ مزید سہل بنا دیا ہے تاکہ لوگ اپنے رہائشی ریکارڈ کو درست اور تازہ ترین رکھ سکیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ پتا تبدیل کروانے کے لیے شہریوں کو لازمی طور پر رہائش کا ایک معتبر ثبوت جمع کرانا ہوگا۔
پتے کی تصدیق کے لیے والدین، شریکِ حیات یا اپنی ملکیت والے پتے پر بجلی، گیس یا پانی کا بل قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، جائیداد کے کاغذات، ہاؤسنگ سوسائٹی کا الاٹمنٹ لیٹر یا مستند کرایہ نامہ بھی ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بہنوں کی عمر میں 10 ماہ کا فرق کیوں؟ نادرا نے خاتون کا شناختی کارڈ بنانے سے انکار کر دیا
نادرا کا کہنا ہے کہ شہری اپنی مطلوبہ دستاویزات کے ساتھ ملک بھر کے کسی بھی قریب ترین نادرا سینٹر میں جائیں، جہاں انہیں پتا کی تبدیلی سے متعلق مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پتا تبدیلی قومی شناختی کارڈ نئی ہدایات جاری نادرا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پتا تبدیلی قومی شناختی کارڈ نئی ہدایات جاری وی نیوز شناختی کارڈ کے لیے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔