میانمار کی فوج نے بدنام زمانہ سائبر کرائم مراکز پر چھاپا مار کارروائی کی جس کے نتجے میں 700 سے زائد بھاگ کر تھائی لینڈ پہنچے تھے تاہم وہاں پکڑے گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق تھائی لینڈ پولیس نے بتایا کہ اب تک 677 افرادکو گرفتار کیا گیا ہے جو میانمار کی سرحد عبور کرکے داخل ہوئے تھے۔

تھائی لینڈ کی پولیس کا مزید کہنا تھا کہ یہ افراد میانمار سے ایک ندی کو تیرتے ہوئے سرحد پار پہنچے اور پکڑے گئے۔

ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق بھارت اور تھائی لینڈ سے ہے جب کہ کچھ کا تعلق پاکستان سے بھی ہے۔

یہ افراد میانمار میں بدنام زمانہ کی فوج نے ’’کے کے پارک‘‘ نامی سائبر فراڈ کمپاؤنڈ پر چھاپا مارا تھا جہاں سے رومانوی تعلق، دھوکہ دہی اور بینکنگ فراڈ کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کو لوٹا جا رہا تھا۔

یہ مراکز زیادہ تر چینی جرائم پیشہ گروہوں کے زیرِ انتظام ہیں۔ جہاں سے اربوں ڈالر کے انٹرنیٹ فراڈ کیے جاتے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق، ان مراکز میں جبری مزدوری سے لے کر جنسی تعلق اور کاروباری دھوکے کیے جاتے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ ان مراکز نے کووڈ کے دور سے مقبولیت حاصل کی جب لوگ زیادہ تر آن لائن شاپنگ یا آفس ورک کررہے تھے۔ میانمار کی فوجی حکومت ان سب سے آگاہ تھی لیکن منافع بخش ہونے کی وجہ سے کارروائی نہیں کی۔

تاہم اب جب کہ اس سائبر کرائم مراکز کے بارے میں دنیا کی بڑی ایجنسیوں ے پردہ چاک کیا تو میانمار کی فوج کارروائی کرنے پر مجبور ہوئی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میانمار کی تھائی لینڈ

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ