پی پی اور لیگی ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کیلیے تیار نہیں‘ گورنر پنجاب
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-08-7
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ورکرز ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔گورنر ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا کے ہم منصب سے ملاقات کے دوران سردار سلیم حیدر نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے
ہمارا پرانا تعلق ہے، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) کا الیکشن کے بعد اتحاد بنا، 18ماہ کی جو گورنمنٹ تھی وہ بھی مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی نے مل کر بنائی تھی، پیپلزپارٹی کے لیے یہ ایک بھیانک خواب تھا۔انہوں نے کہا کہ 18ماہ کی گورنمنٹ میں جو چیزیں طے کی گئیں وہ پوری نہ ہوسکیں، اس بار پہلے معاہدے پر دستخط ہوئے اور پھر حکومت بنائی گئی، ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، معذرت کے ساتھ اس بار بھی کچھ چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہوسکا، سی اے سی میٹنگ میں پارٹی قیادت نے حکومت کو 1ماہ کا وقت دیا ہے۔سردارسلیم حیدر کا کہنا تھا کہ ہم اس سسٹم کو چلانا چاہتے ہیں، امید ہے مسلم لیگ ن کی گورنمنٹ اور وزیراعظم ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو سنجیدگی کو دیکھیں گے، ہم توقع کرتے ہیں اس ماہ میں چیزیں بہتر ہوجائیں، معاملات ٹھیک ہونا ہی ملک کے لیے بہتر ہے، سیاسی لوگوں کو سیاسی طریقے سے ڈیل کرنا چاہیے ۔سردار سلیم حیدر نے کہا کہ (ن) لیگ کے مستقبل پر کوئی پیش گوئی نہیں کرسکتا، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ورکرزایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، سسٹم ڈی ریل ہو جائے تو دوسرا کوئی راستہ نہیں، مسلم لیگ ن سے اتحاد محبت یا شوق کا نہیں بلکہ مجبوری کے تحت ہے، ملک کی وجہ سے ن لیگ سے اتحاد بنا۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے دلیل اوردلائل سے بات کرکے وفاق سے اپنے حقوق لینے ہیں، ہم نے وفاق سے بدمعاشی سے اپنے حقوق نہیں لینے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔