الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بیرسٹر گوہر کی جانب سے آزاد سینیٹرز کو تحریک انصاف میں شامل کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں نہ تو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں آزاد سینیٹرز کو پارٹی میں شامل کرانے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔
اسی سلسلے میں الیکشن کمیشن نے باقاعدہ جوابی خط کے ذریعے پی ٹی آئی کی قانونی صورتحال کی وضاحت بھی کردی۔
مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا
جوابی خط میں کہا گیا کہ بیرسٹر گوہر نے آزاد سینیٹرز کی شمولیت کی منظوری کا مطالبہ کیا، جبکہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا کیس ابھی زیرِ التوا ہے اور خود تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس صورت حال میں نہ انہیں پارٹی چیئرمین مانا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی سینیٹر کی شمولیت کے فیصلے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن کا جواب موصول ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے معاملے کو عدالت میں لے جانے کا اعلان کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی اس کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب پی ٹی آئی کے سینیٹ انتخابات ہوئے تو آزاد سینیٹرز نے پارٹی جوائن کی تھی اور اس حوالے سے خط انہوں نے 13 نومبر کو الیکشن کمیشن کو ارسال کیا تھا، لیکن 26 نومبر کا جواب انہیں آج موصول ہوا، جس میں ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن: چیئرمین سمیت اہم پارٹی عہدوں پر بلا مقابلہ انتخاب
ان کے مطابق یہ نہایت افسوس ناک عمل ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی پر پابندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب الیکشن کمیشن کے مطابق پی ٹی آئی رجسٹرڈ ہی نہیں، تو پھر اس پر پابندی کیسے لگ سکتی ہے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الیکشن کمیشن انکار بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی پی ٹی آئی پابندی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن انکار بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی پابندی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف وی نیوز الیکشن کمیشن نے آزاد سینیٹرز بیرسٹر گوہر انٹرا پارٹی پی ٹی ا ئی پی ٹی آئی ہے اور
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔