ملازمت کے نام پر روس یوکرین جنگ کا ایندھن بنائے جانے والے بھارتی شہری کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
بھارتی ریاست تلنگانہ کے 37 سالہ محمد احمد نے ایک ویڈیو پیغام میں انکشاف کیا ہے کہ وہ روزگار کی تلاش میں روس پہنچے تھے مگر وہاں انہیں دھوکے سے روسی فوج میں شامل کر کے یوکرین کی جنگ میں بھیجنے کی کوشش کی گئی۔
احمد نے اپنی ویڈیو میں بھارتی حکومت سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ تربیت پانے والے 25 افراد میں سے 17 ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک بھارتی شہری بھی شامل ہے۔
روزگار کے بہانے روس بھیجا گیا، فوجی تربیت پر مجبور کیا گیااحمد کی اہلیہ افشاں بیگم نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کو ایک خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا کہ ممبئی کی ایک کنسلٹنسی فرم نے احمد کو روس میں تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کی پیشکش کی تھی۔
AIMIM President Barrister @asadowaisi ne Russia mein maujood Hindustani Embassy se darkhwast ki hai ke Hyderabad ka ek naujawan, Mohammed Ahmed, jise zabardasti Ukraine ki jung mein bhej diya gaya hai, uski wapsi ka intezam kiya jaye.
Barrister Owaisi ne apne letter mein likha ke… pic.twitter.com/RFzXXf6Wry
— AIMIM (@aimim_national) October 17, 2025
وہ اپریل 2025 میں روس گئے، لیکن ایک ماہ تک بے کار بیٹھنے کے بعد انہیں دیگر 30 افراد کے ساتھ ایک دور دراز علاقے میں منتقل کر کے زبردستی اسلحے کی تربیت دی گئی۔
افشاں بیگم کے مطابق تربیت مکمل ہونے پر 26 افراد کو یوکرین کی سرحد پر بھیج دیا گیا، لیکن احمد وہاں سے بھاگنے کی کوشش کے دوران زخمی ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ احمد کو دھمکی دی جا رہی ہے کہ یا تو وہ لڑائی میں شامل ہوں یا قتل کر دیے جائیں۔
ویڈیو میں دردناک انکشافاتاحمد نے روس سے ریکارڈ کردہ ایک ویڈیو میں بتایا کہ ہم 4 بھارتیوں نے جنگ میں جانے سے انکار کیا تو انہوں نے ہم پر بندوق تان لی، یہاں تک کہ میری گردن پر اسلحہ رکھ کر کہا کہ اگر نہ لڑے تو مار دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ڈرون حملے میں ہلاک ہوا۔
AIMIM President Barrister @asadowaisi ne Russia mein phanse Hyderabad ke shehari Mohammad Ahmed ki fauran watan wapsi ke liye Moscow mein Indian Embassy ko khat likhkar is mamle ko sanjeedagi se lene ki darkhwast ki hai. pic.twitter.com/RwZZAadCOH
— AIMIM (@aimim_national) October 17, 2025
انہوں نے کہا کہ میری ٹانگ میں پلاسٹر ہے، میں چلنے کے قابل نہیں، براہِ کرم اس ایجنٹ کو نہ چھوڑیں جس نے مجھے دھوکے سے یہاں بھیجا۔
اہلیہ اور اویسی کی اپیلاحمد کی اہلیہ، افشاں بیگم نے حکومتِ ہند سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے، ان کے مطابق احمد ہی گھر کے واحد کفیل ہیں اور ان کی ماں فالج کے مرض میں مبتلا ہے۔
احمد کی فیملی نے آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اسدالدین اویسی سے بھی رابطہ کیا ہے، جنہوں نے وزارتِ خارجہ اور روس میں بھارتی سفارتخانے سے فوری کارروائی کی درخواست کی ہے۔
بھارتی سفارتخانے کی کارروائیماسکو میں بھارتی سفارتخانے کے مشیر تادو مامو کے مطابق احمد کی تفصیلات روسی حکام کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہیں، اور ان کی جلد رہائی اور واپسی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:روس کے لیے لڑنے والے بھارتی نوجوان نے یوکرینی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے
انہوں نے کہا کہ سفارتخانہ روسی فوج میں شامل تمام بھارتی شہریوں کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھ رہا ہے۔
مزید 27 بھارتی شہری روسی فوج میںبھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، ستمبر میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، 27 مزید بھارتی شہری روسی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ حکومت ان کے اہل خانہ سے رابطے میں ہے اور روسی حکام کے ساتھ واپسی کے معاملات پر گفتگو جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسد الدین اویسی بھارت حیدرآبادی شہری روس یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسد الدین اویسی بھارت یوکرین روسی فوج میں بھارتی شہری میں بھارتی کے مطابق انہوں نے کے ساتھ احمد کی کہا کہ
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔