وزیرخزانہ کی زیر صدارت اجلاس ،مختلف وزارتوں کی سمریاں منظور
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-08-6
اسلام آباد (آن لائن) وزارتِ خزانہ میں کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے کا اجلاس وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں مختلف وزارتوں کی جانب سے پیش کی گئی اہم سمریوں کی منظوری دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں
گورننس اصلاحات، بورڈز کی تشکیلِ نو اور سرکاری اداروں کی درجہ بندی کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی نے وزارتِ صحت کی جانب سے جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری دی، جب کہ وزارتِ تجارت کی سمری پر اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے بورڈ کی ازسرِ نو تشکیل کی منظوری دی گئی تاکہ ادارے میں بہتر کارپوریٹ گورننس اور مؤثر انتظام کو فروغ دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔