سائبر نائف سے تاریخی کامیابی: پاکستانی ڈاکٹروں نے جاپان کا ریکارڈ توڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, October 2025 GMT
گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ اسپتال کے سائبر نائف اینڈ روبوٹک ریڈیو سرجری ڈیپارٹمنٹ نے کینسر کے علاج میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان پلاسٹک سرجری کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟
ڈیپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ احمد کے مطابق اسپتال میں اب تک ایک ہزار سے زائد مریضوں کا کامیاب علاج جدید سائبر نائف مشین کے ذریعے کیا جا چکا ہے جو جدید روبوٹک ریڈیو سرجری ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور دماغ کے اندر موجود رسولیوں کو نہایت مؤثر طریقے سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر عائشہ احمد نے بتایا کہ حال ہی میں ایک خاتون مریضہ جنہیں بریسٹ کینسر کے باعث دماغ میں 60 سے زائد چھوٹے چھوٹے نشانات (میٹس) ہو گئے تھے جن کا کامیاب علاج اسی مشین کے ذریعے کیا گیا۔
مزید پڑھیے: بنا انسانی مداخلت روبوٹک سرجری سے پِتّے کا کامیاب آپریشن اہم سنگ میل قرار
اس سے پہلے جاپان میں 30 برین میٹس کے علاج کا عالمی ریکارڈ تھا جو اب پاکستان نے توڑ دیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جو ایک بڑے عالمی میڈیکل جرنل میں شائع بھی ہو چکا ہے۔
چیئرمین گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ اسپتال پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز نے اس موقعے پر کہا کہ یہ کامیابی ہماری ٹیم کی انتھک محنت، جدید سہولیات اور عوام کے تعاون کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری سائبر نائف ٹیم نے ناممکن کو ممکن بنا کر پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔
مزید پڑھیں: کاسمیٹک سرجری کرانے والی اداکاراؤں کے بارے میں نیلم منیر نے کیا کہا؟
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی نہ صرف شعبہ صحت کے لیے سنگ میل ہے بلکہ ملک کے لیے باعث فخر بھی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سائبر نائف اینڈ روبوٹک ریڈیو سرجری گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ اسپتال.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔
پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔