نواز شریف کا سب سے بڑا کارنامہ ملک کو ایٹمی قوت بنانا ہے، اگر ایٹم نہ ہوتا جنگ کے حالات مختلف ہوتے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
گوجرانوالہ(نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ نواز شریف کا سب سے بڑا کارنامہ ملک کو ایٹمی قوت بنانا ہے اور پاکستان اگر ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو اس سال جنگ میں حالات مختلف ہوتے۔
گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پورے پاکستان میں(ن) لیگ کانعرہ بلند ہوگا، نوازشریف کی قیادت میں پنجاب میں پہلی مرتبہ تعمیراتی سیاست کا آغاز ہوا، نوازشریف نے بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم جو کام انجام دیے تاریخ ہمیشہ یاد رکھےگی۔
انہوں نے کہا کہ آج آپ کے شہر میں جو منصوبہ وزیراعلیٰ پنجاب نے تحفہ دیا ہے اس سے پوری ضلع کی تقدیر بدلے گی، اس منصوبے سے شہریوں کو بے پناہ سہولتیں میسر ہوں گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے بچے وقت پر اسکول پہنچ سکیں گے، مزدور کارخانوں میں، وکلا عدالتوں میں پہنچ سکیں گے، غرض یہ کہ ماس ٹرانزٹ منصوبے سے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا مستفید ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے لاہور میں دل کے امراض کا پہلا اسپتال تعمیرا کرایا اور عام آدمی کے لیے ترقیاتی منصوبے تعمیرا کرائے، نوازشریف کا سب سے بڑا کارنامہ ملک کو ایٹمی قوت بنانا ہے اور پاکستان اگر ایٹمی طاقت نہ ہوتا تو اس سال جنگ میں حالات مختلف ہوتے۔
شرکاء سے مخاطب ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ لاہور کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا تھا مگر اسموگ میں آج کمی آئی ہے تو اس پر مریم نواز اور ان کی ٹیم کو شاباش ملنی چاہیے، یہ تمام کام کوئی چاہے بھی تو اس کو چھپا نہیں سکتا اور مخالف کو بھی ان کاموں کا اقرار کرنا پڑےگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شہباز شریف شریف نے شریف کا نے کہا
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔