پاکستان کی فوج کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے: طاہر اشرفی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسکرین گریب
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ فوج کے خلاف بات کرنے والا طبقہ پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے، پاکستان کی فوج کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی ہے۔
مولانا طاہر اشرفی نے لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جب پاکستان نے بھارت کو جواب دیا تو دنیا ہمارے پیچھے آ گئی، پاکستانی فوج 25 کروڑ پاکستانیوں کی فوج ہے۔
اِن کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے والد محسن پاکستان ہیں، پاکستانی فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے کیا وہ پاکستان کے خیر خواہ ہیں، معرکہ حق پر بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ سپہ سالار کے خلاف بولیں گے تو گلدستہ تو پیش نہیں کیا جائے گا۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جن لوگوں کی زبان سے شہداء بھی محفوظ نہ ہوں وہ کس منہ سے شکایت کرتے ہیں، ان کی شناخت پاکستان دشمن ہے، س مٹی کے ساتھ ان کا کوئی رشتہ نہیں ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے محتاط زبان استعمال کی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے مزید کہا کہ جو پروپگینڈا آپ کر رہے ہیں کیا اس سے سیاسی فضا کبھی بہتر ہو گی ؟
مولانا طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے، ملک میں افراتفری پیدا کرنے کا مقصد امن و استحکام اور معیشت میں خلل ڈالنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طاہر اشرفی نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔