زمان پارک پولیس پر حملہ کیس، پی ٹی آئی رہنما میاں اکرم عثمان شناخت پریڈ کیلئے جیل منتقل
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے زمان پارک میں اسلام آباد پولیس پر حملے کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما میاں اکرم عثمان کو شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔
اے ٹی سی کے جج منظر علی گل نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے اےاین پی امیدوار،اکرم عثمان کے حق میں دستبردار، پی ٹی آئی میں شامل میاں اکرم عثمان، ظہیر عباس کھوکھر ، شبیر گجر نواز اعوان کے انتخابی دفاترکےدورےدورانِ سماعت پولیس نے ملزم میاں اکرم عثمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، پولیس کی جانب سے عدالت سے ملزم کی شناخت پریڈ کی استدعا کی گئی۔
عدالت کی جانب سے 4 دن میں ملزم میاں اکرم عثمان کی شناخت پریڈ مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
واضح رہے کہ ملزم کے خلاف تھانہ ریس کورس پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: میاں اکرم عثمان شناخت پریڈ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔