26 اور27ویں آئینی ترمیم کیخلاف آل پاکستان وکلا کنونشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم کے خلاف لاہور ہائیکورٹ بار نے آل پاکستان وکلا کنونشن طلب کی ہے جس کا انعقاد لاہور ہائیکورٹ بار کے جاوید اقبال اڈیٹوریم میں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں سینیٹر حامد خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد، صدر لاہور ہائیکورٹ بار آصف نسوانہ شریک ہوئے۔
سیکریٹری کراچی بار ایڈووکیٹ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم سے جو پورے ملک میں انگاری لگ گئی ہے یہ ڈی چوک جائے گی۔ یہ جنگ جو آپ نے شروع کی ہے اس جنگ کے خلاف ہیں ہم۔
انہوں نے کہا کہ آج چولستان میں ایک تحریک شروع ہو رہی ہے۔ اگر آپ کے گھر پانی نہ پہنچے تو سمجھ لیں کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے آپ کے حق پر ڈاکا ڈالا جا چکا ہے۔
سابق سیکرٹری حیدر آباد بار ایڈووکیٹ فیصل نے کنونشن سے اپنے خطاب میں کہا کہ محمد صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ 313 بھی نکلیں تو جیت مقدر ہوتی ہے۔ ظلم کیخلاف نکلنا پڑتا ہے۔ آپ کیوں نہیں نکلتے۔ سندھ میں کوئی وکیل پر ہاتھ ڈالتا ہے تو ساری قیادت سڑکوں پر ہوتی ہے۔ یہاں خاموشی کیوں ہے۔ پورا پاکستان آپ کی خاموشی دیکھ رہا ہے۔ کیا یہ خاموشی مصلحت کے تحت تو نہیں ہے۔ پورا ملک ایک سازش کے تحت پنجاب سے نفرت کر رہا ہے اور آپ کی خاموشی اس پر مہر لگا رہی ہے۔
سابق نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار ربیعہ باجوہ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ صدر سندھ ہائیکورٹ بار حسیب جمالی جن طاقتوں کے خلاف جیت کر آئے ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ آج جیسے حکمرانوں نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے سرنڈر کیا ہے ہم اس کے خلاف ہیں۔ وکلا سرنڈر نہیں کریں گے۔
ربیعہ باجوہ نے مزید کہا کہ ایمان مزاری کے خلاف جو کچھ ہوا ہم اس کی مذمت کریں گے۔ جیسے ایک وکیل کا قتل ہوا ہم ان ملزمان کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کو انسانی بنیادی حقوق کی پامالی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پر انٹرنیشنل فورمز پہ جانا چاہیے۔
سابق صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بات کی ہے۔ آج سپریم کورٹ کے اختیارات کو ختم کر دیا گیا۔ پورے پاکستان میں وکلا تحریک چلے گی۔ ہمیں آئین کی بحالی کے لیے کھڑا ہونا ہو گا۔
صدر کراچی بار ایڈووکیٹ عامر نواز وڑائچ نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس کی اتنی جرات کیسے ہوئی کہ ایک وکیل کے گھر گھس کر اس کو شہید کیا۔ اس لیے ایسا ہوا کیونکہ ہماری لیڈر شپ بک چکی ہے۔ آج اگر ملزمان کو چھوڑ دیا تو کل کو آپ قتل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترمیم کے بعد چیمبرز مافیا سے جان چھڑانے کا کہہ کر بوٹ پالشیے پیدا کیے گئے ہیں۔ کنٹرولڈ جوڈیشری آ چکی ہے، انصاف کا قتل ہو چکا ہے۔ آج ججز کو زد و کوب کیا جا رہا ہے۔ آج لوگوں کو مس گائیڈ کیا جا رہا ہے۔
عامر نواز وڑائچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک جسٹس نے سندھ میں آرڈر پاس کیا کہ ایس پی کو چینج کیا جائے، اس جسٹس کو ہی ٹرانسفر کر دیا گیا۔ آج کوئی جوڈیشری نہیں ہے سب غلام ہیں۔
ممبر سندھ بار کے پی لغاری نے کہا کہ 28ویں ترمیم کی تیاری ہو رہی ہے۔ ہم لوگ جو یہاں چیخ رہے ہیں، ہم پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ نظام کو ٹھیک کرو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہائیکورٹ بار نے کہا کہ کے خلاف رہا ہے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔