ترکیہ کی عدالت کے لاکر سے ضبط شدہ ایک ارب روپے مالیت کے زیورات چوری
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
ترکیہ میں کسی کرائم فلم کی پُراسرار انداز میں کی گئی چوری کی واردات نے سب کو حیران اور قدرے پریشان کرکے رکھ دیا۔
اس کہانی میں چوری کی پُراسراریت اگر حیران کن ہے تو واردات میں عدالت کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے لاکر سے قیمتی سامان غائب ہونا سیکیورٹی فورسز کے لیے پریشان کن بھی ہے۔
سونے زیورات سے بھرے اس لاکر سے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا قیمتی سامان چوری ہو گیا۔
نقب زنی کی یہ انوکھی واردات 13 نومبر کو صبح ٹھیک 7:40 بجے کی گئی جب عدالت کا ہال خالی اور راہداریوں میں خاموشی تھی۔
اسی دوران ملزم بڑے اطمینان سے لاکر روم میں داخل ہوا، اور ضبط شدہ قیمتی سامان جن میں سونے کی اینٹیں، بسکٹ، زیورات اور سکے شامل تھے، لے اُڑا۔
جن میں 9,906 گرام خالص سونا، 49 عثمانی دور کے ریشاد سونے کے سکے، 606 کڑے، 1,328 چوتھائی سونے کے سکے، 167 مکمل سونے کے سکے، 487 اتاترک دور کے سونے کے سکے اور 50 کلوگرام چاندی شامل ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم ایسا پرسکون دکھائی دے رہا ہے جیسے یہ روزمرہ کا کام ہو۔ اسے نہ گھبراہٹ، نہ جلد بازی اور نہ ہی کوئی پریشانی تھی۔
اس اطمینان کی بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ چور خود اسی عدالت کا ملازم تھا اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آیا تھا۔
پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز کو غنیمت جان کر ملزم کو گرفتار کرنے اس کے گھر پہنچی تو شدید کوفت اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
تفتیشی ٹیم کو چور ملازم کے گھر کے دروازے پر لٹکا تالا منہ چڑا رہا تھا۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ وہ صاحب تو اپنی بیوی اور بچوں سمیت برطانیہ جا چکے ہیں۔
ترکیہ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے اور اس حیرت انگیز کیس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سونے کے سکے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔