ترکیہ میں کسی کرائم فلم کی پُراسرار انداز میں کی گئی چوری کی واردات نے سب کو حیران اور قدرے پریشان کرکے رکھ دیا۔

اس کہانی میں چوری کی پُراسراریت اگر حیران کن ہے تو واردات میں عدالت کے محفوظ ترین سمجھے جانے والے لاکر سے قیمتی سامان غائب ہونا سیکیورٹی فورسز کے لیے پریشان کن بھی ہے۔

سونے زیورات سے بھرے اس لاکر سے ایک ارب روپے سے زائد مالیت کا قیمتی سامان چوری ہو گیا۔

نقب زنی کی یہ انوکھی واردات 13 نومبر کو صبح ٹھیک 7:40 بجے کی گئی جب عدالت کا ہال خالی اور راہداریوں میں خاموشی تھی۔

اسی دوران ملزم بڑے اطمینان سے لاکر روم میں داخل ہوا، اور ضبط شدہ قیمتی سامان جن میں سونے کی اینٹیں، بسکٹ، زیورات اور سکے شامل تھے، لے اُڑا۔

جن میں 9,906 گرام خالص سونا، 49 عثمانی دور کے ریشاد سونے کے سکے، 606 کڑے، 1,328 چوتھائی سونے کے سکے، 167 مکمل سونے کے سکے، 487 اتاترک دور کے سونے کے سکے اور 50 کلوگرام چاندی شامل ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزم ایسا پرسکون دکھائی دے رہا ہے جیسے یہ روزمرہ کا کام ہو۔ اسے نہ گھبراہٹ، نہ جلد بازی اور نہ ہی کوئی پریشانی تھی۔

اس اطمینان کی بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ چور خود اسی عدالت کا ملازم تھا اور مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ آیا تھا۔

پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز کو غنیمت جان کر ملزم کو گرفتار کرنے اس کے گھر پہنچی تو شدید کوفت اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

تفتیشی ٹیم کو چور ملازم کے گھر کے دروازے پر لٹکا تالا منہ چڑا رہا تھا۔ پڑوسیوں نے بتایا کہ وہ صاحب تو اپنی بیوی اور بچوں سمیت برطانیہ جا چکے ہیں۔

ترکیہ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے اور اس حیرت انگیز کیس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سونے کے سکے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار