اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان طویل رخصت پر، بنچز میں تبدیلیاں
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان خرابیِ صحت کے باعث طویل رخصت پر چلے گئے جس کے بعد عدالت کے بنچز میں اہم تبدیلیاں کر دی گئیں۔ رخصت کے باعث جسٹس محسن اختر کیانی کو طویل عرصے بعد دوبارہ ڈویژن بینچ کی سربراہی مل گئی جبکہ جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سنگل بینچ ختم کرکے انہیں جسٹس بابر ستار کے ساتھ اسپیشل ڈویژن بینچ میں شامل کر دیا گیا۔
آئندہ ہفتے کی سماعت کے لیے جاری روسٹر کے مطابق ہائیکورٹ میں آٹھ سنگل بنچ، چار ڈویژن بنچ اور ایک اسپیشل ڈویژن بینچ دستیاب ہوگا۔ پہلا ڈویژن بینچ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ہوگا۔ دوسرا ڈویژن بینچ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس طارق جہانگیری پر مشتمل ہوگا جو فوجداری اپیلیں سنے گا۔
جسٹس اعجاز اسحاق خان کی رخصت کے باعث وہ اسپیشل بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے اور ان کی جگہ جسٹس ثمن رفعت کو جسٹس بابر ستار کی سربراہی والے بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔ تیسرا ڈویژن بینچ بھی جسٹس بابر ستار کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا ہے جو ٹیکس کیسز کی سماعت کرے گا۔ چوتھا ڈویژن بینچ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر جبکہ پانچواں ڈویژن بینچ جسٹس خادم سومرو اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈویژن بینچ اور جسٹس
پڑھیں:
سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کردی ہیں، جبکہ عمران خان رہائی فورس کے خلاف دائر درخواست اور خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے کے خلاف اپیل پر 29 جولائی کو سماعت ہوگی۔
چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی عدالت کا 3 رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری، کیا مقدمات کے باعث ان کی کرسی خطرے میں ہے؟
عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں، آئینی عدالت اس سے قبل 9 مئی کے مقدمات کی واپسی کے حکومتی فیصلے پر حکم امتناع بھی جاری کرچکی ہے۔
ریڈیو پاکستان کی جانب سے پشاورمیں ریڈیو پاکستان پر حملے سے متعلق مقدمہ واپس لینے کے خیبرپختونخوا حکومت کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں: ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات لگانے کا کیس: سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
درخواست میں ریڈیو پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مقدمہ خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے منتقل کیا جائے، جس کی استدعا بھی عدالت کے سامنے زیر غور آئے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
9 مئی جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس حکم امتناع خیبر پختونخوا رہائی فورس ریڈیو پاکستان سہیل آفریدی عمران خان وزیر اعلی وفاقی آئینی عدالت