اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام (SAP) کے تحت قومی اسمبلی کے حکومتی بینچوں سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کو 43 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز جاری کر دیے ہیں،جن کے ذریعے رواں مالی سال 2025-26 میں چھوٹے ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اسٹیئرنگ کمیٹی کی سربراہی نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈارکرتے ہیں، ہر ایم این اے کیلیے 25 کروڑ روپے کی منظوری دی۔

یہ 43 ارب روپے، 50 ارب کے اْس پیکج کاحصہ ہیں، جسے اگست میں منظورکیاگیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس رقم کا سب سے بڑاحصہ پنجاب کو ملا ہے،جہاں 23.

5 ارب روپے صرف کیے جائیں گے، جن میں سے 17.6 ارب پنجاب حکومت جبکہ 5.9 ارب دیہی علاقوں میں بجلی منصوبوں کیلیے رکھے گئے ہیں۔

آئی ایم ایف کی حالیہ گورننس وکرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ نے صوابدیدی فنڈز پر شدیدتحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ فنڈز حکومتی یابااثر بیوروکریسی کے زیرِ اثرحلقوں تک ہی محدود رہتے ہیں، جبکہ بجٹ کے نفاذ میں شفافیت اور پارلیمانی نگرانی محدود ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ کے ارکانِ قومی اسمبلی کیلیے 15.3 ارب روپے مختص کیے گئے ،جن میں سے 10.9 ارب صوبائی حکومت اور 4.3 ارب پاکستان انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔

خیبر پختونخواکوصرف 1.3 ارب روپے ملے ہیں، بلوچستان کیلیے 2.3 ارب جاری کیے گئے ،جبکہ وفاقی دارالحکومت کے تین حلقوں کیلیے 75 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔

فنڈزکی شفافیت اور مؤثر نگرانی کے حوالے سے تحفظات برقرار ہیں،کیونکہ یہ اسکیمیں معمول کے جانچ پڑتال کے مراحل سے نہیں گزرتی ہیں۔

اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کے بعد یہ فنڈزکابینہ ڈویژن کے ذریعے متعلقہ صوبائی اداروں کومنتقل کیے جارہے،جبکہ پلاننگ کمیشن پوری رقم ایک ہی قسط میں جاری کرتاہے۔

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ارب روپے

پڑھیں:

فنڈز مہیا کیے جائیں تو کے فور منصوبہ 2026 تک مکمل ہوسکتا ہے، واپڈا

فائل فوٹو 

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کے فور پروجیکٹ 64 فیصد مکمل ہوچکا ہے، درکار فنڈز مہیا کر دیے جائیں تو واپڈا کےفور منصوبہ 2026 کے دوران مکمل کر سکتا ہے۔

 چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ کراچی شہر کیلئے کے فور پروجیکٹ بہت اہم ہے۔ کراچی شہر کو پانی سپلائی کے اس منصوبے پر اب تک 86 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

کراچی میں ریڈ لائن بس منصوبہ کئی سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکا

کراچی کا بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل ہے، اس کی خاصیت یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار کسی بی آر ٹی کے منصوبے میں انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک بھی بنایا جا رہا ہے۔

چیئرمین واپڈا نے کے فور منصوبے کا دورہ کیا اور کنٹریکٹر ز کو ہدایت کی کہ اضافی وسائل کی دستیابی یقینی بناتے ہوئے تعمیراتی کام میں تیزی لائی جائے ، کے فور پروجیکٹ کراچی شہر کو روزانہ 650 ملین گیلن پانی مہیا کرے گا۔

انہوں نے گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم کے فور پروجیکٹ کا دورہ کیا اور اہم سائٹس پر تعمیراتی کام کا جائزہ لیا۔ ان سائٹس میں ان ٹیک اسٹرکچر، پمپنگ اسٹیشن، کینجھر جھیل سے کراچی تک ہائی پریشرائزڈ پائپ لائنز اور فلٹریش پلانٹ شامل ہیں۔

واپڈا ترجمان کے مطابق تمام 8 کنٹریکٹ پیکجز کی اہم سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ 

کے فور: عظیم یا قدیم تر منصوبہ آب رسانی

چند یوم قبل گورنر ہاوس کراچی میں کراچی کو فراہمی...

چیئرمین واپڈا نے پائپ لائن 2 کے کنٹریکٹ پیکیج پر بالخصوص کام تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا، انہوں نے ہدایت کی کہ پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران سندھ حکومت سے قریبی اور موثر رابطہ برقرار رکھا جائے۔

کےفور پروجیکٹ دو مراحل میں مکمل ہوگا، اس وقت واپڈا کے فور پروجیکٹ کے پہلے مرحلے پر کام کر رہا  ہے پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہم ہوگا۔

چیئرمین واپڈا نے نئی گاج ڈیم پروجیکٹ سائٹ کا بھی دورہ کیا تاکہ اس پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کرنے کیلئے لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے، نئی گاج ڈیم مکمل ہونے پر 28 ہزار 800 ایکڑ بنجر زمین زیر کاشت آئے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فنڈز مہیا کیے جائیں تو کے فور منصوبہ 2026 تک مکمل ہوسکتا ہے، واپڈا
  • دہلی کی ہوا خطرناک حد تک آلودہ لیکن مودی حکومت شہریوں کی زندگی سے کھیل رہی ہے، سندیپ دیکشت
  • ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل ترجیح ہے‘فراز حسیب
  • نومبر میں مہنگائی 5 سے 6 فیصد رہنے کا امکان،وزارتِ خزانہ کی معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری
  • وزیر اعلیٰ کے پی کا راولپنڈی پر جاری دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ
  • ایران سے بلوچستان کیلئے درآمدی بجلی 18 روپے فی یونٹ، سینیٹ میں حکومتی وضاحت پیش
  • قوم کے مقبول ترین لیڈر کو مکمل تنہائی میں رکھنا بدترین سیاسی انتقام ہے، حلیم عادل شیخ
  • ہانگ کانگ کے رہائشی کمپلیکس میں قیامت خیز آگ سے ہلاکتیں 55 تک پہنچ گئیں
  • سہ ملکی سیریز: فائنل میں رسائی یا گھر واپسی، سری لنکا کیلیے فیصلہ کن مقابلہ