دہلی کی ہوا خطرناک حد تک آلودہ لیکن مودی حکومت شہریوں کی زندگی سے کھیل رہی ہے، سندیپ دیکشت
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
کانگریس لیڈر نے کہا کہ دہلی کی شدید آلودگی میں پرالی اور پٹاخوں کا حصہ بہت کم ہے، جبکہ سب سے بڑی وجہ گاڑیوں کا دھواں، بے ترتیب ٹریفک، عوامی ٹرانسپورٹ کی تباہی اور کچرے کا جلانا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر رہنما سندیپ دیکشت نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی موجودہ فضائی صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ اسے وہ ذاتی طور پر دھیما زہر اور بڑی ناکامی مانتے ہیں۔ سندیپ دیکشت نے کہا کہ چونکہ ڈاکٹر بھی بتا چکے ہیں کہ دہلی کی آلودہ ہوا ایک عام شہری کی عمر 6 سے 7 سال تک کم کر دیتی ہے، اس لئے یہ مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ براہِ راست انسانی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال پرالی اور دیوالی کے وقت ہونے والی بحث لوگوں کو اصل مسئلے سے بھٹکاتی ہے، کیونکہ اصل آلودگی پورے سال جاری رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی شدید آلودگی میں پرالی اور پٹاخوں کا حصہ بہت کم ہے، جبکہ سب سے بڑی وجہ گاڑیوں کا دھواں، بے ترتیب ٹریفک، عوامی ٹرانسپورٹ کی تباہی اور کچرے کا جلانا ہے۔
سندیپ دیکشت نے کہا کہ گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کو وجہ بتا کر حکومتیں عوام کو گمراہ کرتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی بہتر ہونے کے باوجود سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹریفک جام نے آلودگی میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں رات کے وقت گاڑیوں کی اوسط رفتار 15 کلو میٹر فی گھنٹہ تک گر جاتی ہے، جو آلودگی کو 2.
ان کا کہنا تھا کہ دہلی میں غیر مجاز صنعتیں ناقص ایندھن استعمال کر کے آلودگی پھیلا رہی ہیں اور یہ سب پولیس، ایم سی ڈی اور سیاسی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2004ء 2005ء کے دوران آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کو سختی سے بند کیا گیا تھا مگر اب حکومتیں سیاسی فائدے کے لیے خاموش ہیں۔ کچرے کو جلانے کو بھی ایک بڑا سبب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہلی میں ویسٹ سیگریگیشن کا نظام ختم ہو چکا ہے، کچرے کے ڈھیر بڑھ رہے ہیں اور انہیں کھلے میں جگہ جگہ جلایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچرے سے تواناتی پیدا کرنے والے پلانٹوں کو سیاست کی نذر کر کے بند کر دیا گیا جبکہ دنیا بھر میں یہی ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔
سندیپ دیکشت نے کہا کہ حکومتیں سڑکوں پر پانی چھڑکنا یا چند روز کے لئے اسکول بند کرنے جیسے دکھاوے کے اقدامات کرتی ہیں مگر بنیادی وجوہات پر کام نہیں کرتیں۔ انہوں نے آلودگی کے لئے دہلی اور مودی حکومت دونوں کو برابر کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ میں دونوں ہی برابر کے شریک ہیں۔ سندیپ دیکشت نے نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر سے مطالبہ کیا کہ آلودگی پر قومی سطح کی بحث کرائی جائے، مشترکہ کمیٹی بنے اور ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جو واقعی دہلی کے شہریوں کی جان بچا سکیں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سندیپ دیکشت نے کہ دہلی کی
پڑھیں:
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث
ریاض احمدچودھری
سکھوں کی عالمی سطح پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث بھارت کی مودی سرکار کا بین الاقوامی دہشتگرد نیٹ ورک بے نقاب ہوگیاہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہندوتوا نظریے کے تحت سرحد پار دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ انتہا پسند مودی حکومت کی سرپرستی میں بیرون ملک سکھوں کے قتل عام کی مذموم سازش ناکام اور بے نقاب ہوئی ہے۔ عالمی جریدے دی گارڈین کے مطابق کینیڈا نے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ میں ملوث بھارتی گروہ بشنوئی گینگ کو دہشت گرد قرار دیاہے۔ لارنس بشنوئی کا مجرمانہ نیٹ ورک بیرون ِملک ہائی پروفائل ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔برطانوی جریدے کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ کینیڈین حکومت کے مطابق بشنوئی گینگ معروف سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھی ملوث ہے۔ بشنوئی گینگ تارکین وطن سے بھتہ خوری ، انہیں ڈرانے دھمکانے اور قتل میں ملوث ہے اور اسکے بھارتی حکومت سے مبینہ روابط ہیں۔ کینیڈین حکام کا کہناہے کہ بھارت نے بشنوئی گینگ کی مدد سے نجر کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔
سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسل گْرپتونت سنگھ پنن نے کہا کہ یہ ریفرنڈم سکھوں کی دہائیوں پر محیط سیاسی جدوجہد کا حصہ ہے۔ 1984 کے فسادات کے بعد آج پنجاب مودی حکومت کے تحت معاشی اور سیاسی دباوکا سامنا کر رہا ہے۔تنظیم کا مقصد مودی حکومت کو سیاسی طور پر جوابدہ بنانا ہے، نہ کہ جسمانی نقصان پہنچانا، اور ووٹ کے ذریعے خالصتان تحریک کے اثرات کو مضبوط کرنا ہے۔سکھ ووٹروں نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان جاری تجارتی بات چیت پر بھی ردعمل ظاہر کیا، خاص طور پر ہردیپ سنگھ نجّار کے قتل کی تحقیقات کے بغیر معاملات جاری رکھنے پر۔ ووٹرز کی اکثریت نے حکومت کی پالیسی کی مخالفت کی اور واضح کیا کہ وہ قومی سلامتی ایجنسیاں جاری تنبیہات کو نظرانداز نہ کریں۔کینیڈا میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم کے تازہ ترین مرحلے میں کینیڈا کے 4 صوبوں سے تعلق رکھنے والے 53 ہزار سے زائد کینیڈین سکھوں نے ووٹ ڈالے، ریکارڈ ٹرن آوٹ مشرقی پنجاب کی بھارت سے آزادی کی حمایت کرتا ہے۔
یہ غیر سرکاری عالمی ووٹنگ مہم علیحدگی پسند تنظیم سکھس فار جسٹس (SFJ) کی جانب سے منظم کی گئی تھی، اونٹاریو، البرٹا، برٹش کولمبیا اور کیوبیک کے سکھ ووٹرز میگ نیب کمیونٹی سینٹر میں جمع ہوئے، جہاں منفی درجہ حرارت، برف باری اور تیز ہواوں کے باوجود 2 کلومیٹر طویل قطاریں لگی رہیں۔ سہ پہر 3 بجے پولنگ کے سرکاری اختتام پر بھی ہزاروں لوگ لائن میں موجود تھے، جس پر حکام نے تمام ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا موقع دینے کے لیے عمل کو جاری رکھا۔سکھس فار جسٹس نے اسے کینیڈا کا خالصتان پر ریفرنڈم’ قرار دیا اور اسے کینیڈا کی حکومت کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے طریقہ کار پر عوامی ردِعمل کے طور پر پیش کیا، گروپ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ وزیرِ اعظم مارک کارنی کی حکومت نے اسی روز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ جی20 تجارتی مذاکرات کیوں کیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کینیڈین انٹیلی جنس ایجنسیاں بھارتی سرکاری اہلکاروں پر قتل کی سازشوں، غیر ملکی مداخلت اور کینیڈین شہریوں کو نشانہ بنانے والے جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگا چکی ہیں۔
کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں،ریفرنڈم شروع ہوتے ہی پورے صوبہ اونٹاریو سمیت امریکہ اور یورپ سے خالصتانی علیحدگی پسند برف باری کے نیچے ووٹنگ کے لیے جمع تھے۔کینیڈین پارلیمنٹ سے صرف ایک بلاک دورپیلے جھنڈے لہرائے جارہے تھے،بھارت مخالف نعرے اوٹاوہ میں گونجتے رہے، پنجاب کی آزادی کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔سکھ خاندان اپنے بچوں کے ساتھ مقررہ وقت سے چندگھنٹے پہلے ہی پولنگ اسٹیشن،میک ناب کمیونٹی سینٹر کے باہر کھے آسمان تلے کھڑے دیکھے گئے۔اس دوران سکھ تنظیموں اور افرادکی طرف سے سوشل میڈیاپر وڈیوزشیئر کی گئیں۔ سکھ سوشل میڈیا صارفین کا کہناتھاکہ یہ مناظر ثابت کر رہے ہیں کہ کوئی طوفان پنجاب کی آزادی کو بھارتی قبضے سے نہیں روک سکتا، اور کوئی طاقت آزادی کا انتخاب کرنے والی قوم کو نہیں روک سکتی۔سکھس فار جسٹس (SFJ) نے اس حوالے سے کہا کہ زیادہ ٹرن آوٹ بھارتی پنجاب کے سیاسی مستقبل پر بیلٹ پر مبنی پرامن جمہوری عمل میں حصہ لینے والے سکھوں کی جانب سے نظم و ضبط اور پرعزم شہری ہونے کی نمائندگی کرتا ہے۔بین الاقوامی مبصرین کی ایک ٹیم نے ووٹنگ کے عمل کا مشاہد ہ کیا اور اسے شفاف، پرامن، اور عالمی جمہوری معیارات کے مطابق قرار یتے ہوئے کہا کہ سکھوں کی بڑی تعداد نے اس مسئلے کی بین الاقوامی اہمیت اور ریفرنڈم مہم میں کمیونٹی کی گہری جذباتی لگن کو واضح کیا۔
خالصتان ریفرنڈم کے موقع پرامن وامان قائم رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات دیکھے گئے۔ مقامی پولیس اور نجی سیکیورٹی اہلکار کمیونٹی سینٹر کے ارد گرد تعینات تھے۔ شرکاء کو داخلے سے پہلے شناختی جانچ پڑتال اور اسکریننگ سے گزرنا ضروری تھا، تاکہ پولنگ کا عمل منظم رہے۔ فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے سکھ برادری کے خلاف جابرانہ ہتھکنڈوں کے استعمال اور دبا ئوکے باوجود خالصتان تحریک مزید زور پکڑ رہی ہے۔گرپتونت سنگھ پنوں نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اندرجیت سنگھ کو ہتھیاروں کے جھوٹے کیس میں پھنسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو کینیڈا، امریکہ یا یورپ میں آ کر گرفتاری کر کے دکھائے۔