سلامتی کونسل نے ایرانی جوہری پروگرام پر غور و خوض ختم کر دیا ہے، میخائیل اولیانوف
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
ویانا میں مقیم بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے نے تاکید کی ہے کہ قرارداد 2231 کے پیراگراف 8 کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج ایرانی جوہری مسئلے پر اپنے غور و خوض کا خاتمہ کر دیا ہے اسلام ٹائمز۔ ویانا میں قائم بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے مستقل نمائندے میخائیل اولیانوف نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے جوہری مسئلے کے حوالے سے "عدم پھیلاؤ" کے معاملے کو ان موضوعات کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے کہ جن پر سلامتی کونسل غور و خوض کرتی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اپنے بیان میں میخائیل اولیانوف کا لکھنا تھا کہ قرارداد 2231 کے پیراگراف 8 کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے آج ایرانی جوہری مسئلے پر اپنے غور و خوض کا اختتام کر دیا ہے اور اب سے (ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے) "عدم پھیلاؤ" کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں باقی نہیں۔
ویانا میں روس کے مستقل نمائندے نے ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے اسنیپ بیک کو فعال کرنے پر مبنی یورپی ممالک کی کارروائی حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ عام طور پر، یہ ایک نئی صورتحال ہے اور میں نہیں جانتا کہ کیا "مغربی" پوری طرح سے سمجھتے ہیں کہ ان کے اقدامات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں.
ادھر ایران، روس و چین کے سفیروں و مستقل نمائندوں نے بھی قرارداد 2231 کے خاتمے کے حوالے سے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اور صدر سلامتی کونسل کو ایک مشترکہ خط لکھا ہے جس میں اقوام متحدہ میں ایران، روس و چین کے سفیروں نے اسنیپ بیک کو فعال کرنے پر مبنی یورپی ممالک کے اقدام کو قانونی اعتبار سے ناقص و قانونی حیثیت سے عاری قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مقررہ وقت پر اس قرارداد کے مکمل طور پر خاتمے کا مطلب سلامتی کونسل میں ایرانی جوہری مسئلے پر غور و خوض کا باقاعدہ خاتمہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی جوہری سلامتی کونسل جوہری مسئلے اقوام متحدہ کے حوالے سے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔