WE News:
2026-06-02@23:39:57 GMT

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف دائر 70 شکایات مسترد کر دیں

اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف دائر 70 شکایات مسترد کر دیں

ججوں کے احتساب کے لیے قائم ادارے سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنے آج ہونے والے اجلاس میں 74 شکایات کا جائزہ لے کر 70 شکایات متفقہ طور پر مسترد کر دیں۔

سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بطور چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کی، جو سپریم کورٹ آف پاکستان میں منعقد ہوا۔

ویڈیو لنک اور ذاتی شرکت

اجلاس میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر ذاتی طور پر شریک ہوئے۔

پہلے مرحلے میں 67 شکایات کا جائزہ، 65 مسترد

اجلاس کے پہلے مرحلے میں کونسل نے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت 67 شکایات کا جائزہ لیا، جن میں سے 65 درخواستیں متفقہ طور پر مسترد کر دی گئیں۔ ایک شکایت پر کارروائی کو موخر جبکہ ایک پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی شمولیت

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی اجلاس میں شمولیت سے معذرت کے بعد ان کی جگہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کو شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے بچ پائیں گے؟

اس کے بعد سات (7) شکایات کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے پانچ (5) مسترد کر دی گئیں، جبکہ دو (2) پر مزید کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔

ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی منظوری

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی بھی منظوری دے دی۔ یہ ترامیم چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی جانب سے تجویز کی گئی تھیں، جنہیں معمولی رد و بدل کے بعد کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا۔ مزید ہدایت دی گئی کہ ترامیم سرکاری گزٹ میں شائع کی جائیں۔

اعلامیے کے مطابق، ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق تمام اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ارسال کیا جائے گا اور اسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی جاری کیا جائے گا۔

زیرِ التوا شکایات کی تعداد 87 رہ گئی

اعلامیے کے مطابق، سپریم جوڈیشل کونسل میں اب اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف زیرِ التواء شکایات کی تعداد 87 رہ گئی ہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2024 سے اب تک 155 شکایات نمٹائی جا چکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

چئف جسٹس سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ یحییٰ آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ یحیی ا فریدی سپریم جوڈیشل کونسل شکایات کا جائزہ سپریم کورٹ ہائی کورٹ کونسل نے چیف جسٹس کیا گیا ججز کے

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ