سپرٹیکس کیس : آپ ساراٹیکس خود نہیں ، سگریٹ نوشی کرنیوالے بھی دے رہے ہیں جسٹس جامل مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر ) سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جمعہ کو سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی ، جس میں درخواست گزاروں کے وکیل اعجاز احمد زاہد نے اپنے دلائل مکمل کر لیے جس کے بعد سماعت پیر تک ملتوی کردی گئی۔ دوران سماعت وکیل اعجاز احمد زاہد نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آر میں کل 10 ٹوبیکو کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں۔ ایف بی آر کے وکلا نے اپنے دلائل کے دوران ایک ٹیبل پیش کیا اور اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ ایک سگریٹ کی ڈبی جو 173 روپے کی ہے اس پر 44 روپے ٹیکس ہے۔ ٹوبیکو کی قیمت پاکستان ٹوبیکو کمپنی کنٹرول کرتی ہے۔ ایک سگریٹ کا پیکٹ جس کی قیمت 77 روپے ہے اس پر 44 روپے ٹیکس ہے اور 33 روپے بچت ہے ۔ موجودہ قانونی رجیم کے ہوتے ہوئے ونڈ فال لینا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے کہ ہم مقدمے کے حقائق میں نہیں جائیں گے آپ قانونی سوالات پر دلائل دیں، جس پر وکیل نے کہا کہ اگر قیمت میں اضافہ ہو گا تو ٹیکس بھی بڑھے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ نے ٹیکس دینا ہے وہ آپ کے نفع سے ہی ہو گا، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جو ہمارے سامنے پیش کیا جا رہا ہے وہ اصل بجٹ نہیں ہے۔ سابق وزیر خرانہ شوکت ترین کا بیان موجود ہے کہ آئی ایم ایف بجٹ نافذ کرنے کا کہہ رہا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے بعد آئینی بینچ ہیں، ہم نے تمام آئینی مقدمات دیکھنے ہیں، ہم کیسے آئینی سوال کو اگنور کر سکتے ہیں؟۔ 18 ویں ترمیم کے بعد سینیٹ میں نسبتا زیادہ ٹیکنوکریٹ ہیں، اس لیے وہاں سے مشورے بہتر آسکتے ہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ویسے آپ کی کمپنی کو داد دینی پڑے گی اتنے کم منافع میں 300 ملین روپے کما رہے ہیں۔ چھوٹے مارجن سے اتنا کما رہے ہیں داد تو بنتی ہے۔وکیل نے بتایا کہ کہا گیا کہ ہمیں آئی ایم ایف کا بڑا پریشر تھا ۔ جسٹس جمال نے استفسار کیا کہ آپ کا سگریٹ افغانستان سے برآمد ہو تو پھر ؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی اور ملک کا سگریٹ برآمد ہوتی تو میں ذمہ دار نہیں ہوں ۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ان سے خرید کر کوئی اور سمگل کرسکتا ہے ۔ مال ایکسائز افسر کے سامنے باہر جاتا ہے ۔وکیل اعجاز احمد نے اپنے دلائل میں کہا کہ مالیاتی خسارہ کو ختم کرنا ہے تو وہاں سے کریں جہاں سے لیکیج ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ سارا ٹیکس خود نہیں دے رہے جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں وہ بھی دے رہے ہیں ۔ آپ صرف انکم ٹیکس دے رہے ہیں ۔ آپ کے پروڈکٹ کو استعمال کرنے والے مخصوص لوگ ہیں جو اچانک نہیں بڑھتے ۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر کے روز تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس جمال نے کہا کہ وکیل نے رہے ہیں دے رہے
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔