بحیرہ عرب میں ہوا کا دباؤ بدستور موجود، کراچی سے فاصلہ کم ہونے لگا
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251025-08-26
کراچی (اسٹاف رپورٹر) محکمہ موسمیات نے جنوب مشرقی بحیرہ عرب میں موجود ہوا کے دبائو کے حوالے سے تیسرا ٹراپیکل سائیکلون واچ جاری کر دیا ہے۔ محکمے کے مطابق گزشتہ24 گھنٹے کے دوران یہ دبائو شمال، شمال مشرق کی سمت میں بڑھاہے۔ محکمہ موسمیات کے بیان کے مطابق یہ دبائو اس وقت کراچی کے جنوب/جنوب مشرق میں تقریباً 1340 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، جبکہ لکش دیپ (بھارت) کے شمال مغرب میں مشرق کی جانب تقریباً 340 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ محکمے نے مزید بتایا کہ اگلے 24 گھنٹے کے دوران یہ نظام مزید شمال، شمال مشرق کی سمت بڑھتے ہوئے مشرقی وسطی بحیرہ عرب میں منتقل ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے واضح کیا ہے کہ فی الحال پاکستان کے کسی ساحلی علاقے کو اس موسمِ بحر یا کم دبائو سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ سائیکلون وارننگ سینٹر کراچی اس موسمی نظام کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور کسی بھی تبدیلی کی صورت میں عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔